World
برطانیہ میں شدید بارشوں کے باوجود خشک سالی اور واٹر بانس برقرار
انگلینڈ اور ویلز کے مختلف حصوں میں فروری کے اوائل کے بعد سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں خشک سالی کی صورتحال اور پانی کے استعمال پر پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔
انگلینڈ اور ویلز کے متعدد علاقوں میں حالیہ ہفتے کے دوران فروری کے اوائل کے بعد سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے طویل خشک سالی کے خاتمے کی کچھ امید پیدا ہوئی تھی۔ تاہم، ماحولیاتی اور آبی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ محض چند دنوں کی بارش سے زیر زمین پانی کی سطح بحال نہیں ہو سکتی، اور اسی وجہ سے خطے میں خشک سالی کی کیفیت بدستور برقرار ہے۔ برطانوی محکمہ موسمیات کے مطابق ان بارشوں نے طویل عرصے سے جاری خشک موسم کا زور کچھ تو توڑا ہے، لیکن آبی ذخائر کی سطح اب بھی معمول سے کم ہے۔ حکام کی جانب سے پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے عائد کردہ پابندیاں بھی تاحال نافذ العمل ہیں۔ متعلقہ محکموں نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ پانی کے استعمال میں احتیاط جاری رکھیں کیونکہ ایک ہفتے کی بارش طویل مدتی پانی کے بحران کا حل نہیں ہے۔ مقامی واٹر کمپنیوں نے بھی واضح کیا ہے کہ جب تک آبی ذخائر مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ جاتے، ہوز پائپ کے استعمال پر پابندیاں اور دیگر حفاظتی اقدامات ملک کے مختلف حصوں میں لاگو رہیں گے۔ اس صورتحال نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی اور پانی کے محتاط استعمال کی کتنی ضرورت ہے۔