LIVE
Loading Breaking News...

ایفل ٹاور ملازمین کی ہڑتال اور احتجاجی بندش کی خبر

News Image
خواتین ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک اور مذہبی دورے پر جانے کے معاملے پر ایفل ٹاور کے عملے نے احتجاجاً کام بند کر دیا۔ پیرس کے میئر نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے ملازمین کے تحفظات کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع دنیا کے مشہور ترین تاریخی مقام ایفل ٹاور کو ملازمین کی اچانک ہڑتال اور احتجاج کی وجہ سے سیاحوں کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب خواتین ملازمین کے ایک گروپ کو مذہبی دورے پر منتقل کیے جانے کے معاملے پر شدید تنازعہ پیدا ہوا۔ یونین کے نمائندوں کے مطابق اس واقعے سے خواتین ملازمین کی دل آزاری ہوئی اور وہ خود کو بے حد مایوس اور تضحیک کا نشانہ محسوس کر رہی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر عملے نے کام سے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں ٹاور پر آنے والے سیاحوں کو داخلے سے روک دیا گیا۔ پیرس کے میئر کے دفتر نے اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس پورے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملازمین کے تحفظات اور ان کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کی تہہ تک پہنچا جائے گا تاکہ آئندہ اس قسم کے مسائل سے بچا جا سکے۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی یونین کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا کوئی حل نکال لیا جائے گا تاکہ ایفل ٹاور کو دوبارہ سیاحوں کے لیے کھولا جا سکے۔ اس بندش کی وجہ سے دنیا بھر سے پیرس آنے والے ہزاروں سیاحوں کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے جو اس تاریخی مینار کو دیکھنے کے لیے ٹکٹ خرید چکے تھے۔