World
کیف پر روسی حملے، امریکی ایلچی کا دورہ اور آئندہ کے اقدامات
امریکی ایلچی کے دورے کے اختتام پر روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر حملے دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے حکام نے بتایا ہے کہ اس صورتحال کے تناظر میں آئندہ چند ہفتوں میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف پر ایک بار پھر روسی فضائی حملوں کا آغاز ہو گیا ہے، جو کہ امریکی ایلچی کے دورے کے دوران اعلان کردہ عارضی تین روزہ وقفے کے خاتمے کے فورا بعد پیش آئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق، ان حملوں سے شہر میں ایک بار پھر سکیورٹی کے خداتم بڑھ گئے ہیں جبکہ شہری آبادی میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ روسی افواج کی جانب سے یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب سفارتی سطح پر تنازع کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
دوسری جانب، امریکی ایلچی نے یوکرین کے دورے کے دوران ہونے والی بات چیت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سیشن سے کافی حد تک 'حوصلہ افزا' ہوئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ یوکرین کے تنازع اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جا چکے ہیں جن کا اعلان آئندہ چند ہفتوں کے اندر متوقع ہے۔ اس اعلان سے بین الاقوامی سطح پر اس بات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اب اس بحران سے نمٹنے کے لیے اپنی پالیسی میں کیا نئی تبدیلیاں لانے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے حملوں کا دوبارہ شروع ہونا اس بات کا غماز ہے کہ میدان جنگ میں کشمکش میں فی الحال کوئی کمی نہیں آئی۔ عارضی وقفے محض سفارتی سرگرمیوں کے لیے دیے گئے تھے اور ان کے ختم ہوتے ہی زمینی حقائق ایک بار پھر شدت اختیار کر چکے ہیں۔ یوکرینی حکام نے عالمی برادری سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آئندہ آنے والے ہفتے اس تنازع کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اعلان کردہ نئے اقدامات اس بات کا تعین کریں گے کہ واشنگٹن اور اس کے حلیف ممالک کیف کی حمایت میں کس حد تک آگے بڑھتے ہیں۔ دریں اثنا، کیف میں جاری ان حملوں کے بعد فضائی دفاعی سسٹمز کو ایک بار پھر ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔