LIVE
Loading Breaking News...

پاناما نہر میں جہازوں کی آمدورفت ایل نینو کی وجہ سے متاثر ہونے کا خدشہ

News Image
پاناما نہر کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر موسمیاتی اثرات اور خشک سالی میں شدت آئی تو جہازوں کی آمدورفت مزید کم کی جا سکتی ہے۔ یہ فیصلہ ایل نینو کے مضبوط ہونے کی وجہ سے پانی کی سطح میں ممکنہ کمی کے پیش نظر کیا جائے گا۔
عالمی تجارت کے ایک انتہائی اہم گزرگاہ پاناما نہر کو ایک بار پھر سنگین موسمیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں سمندری طوفانوں اور موسمیاتی توازن کو متاثر کرنے والے مظہر 'ایل نینو' کے مزید مضبوط ہونے کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال نے پاناما کی مقامی انتظامیہ اور نگران حکام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ملک میں جاری شدید خشک سالی کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ خشک سالی کے طویل ہونے سے نہر میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گرنے کا اندیشہ ہے۔پاناما نہر کے ذمہ دار اداروں نے واضح کیا ہے کہ اگر پانی کی سطح میں مزید گراوٹ آئی تو انہیں مجبورا جہازوں کی آمدورفت میں مزید کمی کا سخت فیصلہ کرنا پڑے گا۔ پہلے ہی پانی کی قلت کی وجہ سے نہر سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کے وزن، سائز اور روزانہ کی بنیاد پر گزرنے والے ٹریفک کے کوٹے میں نمایاں کٹوتی کی جا چکی ہے۔ اس تازہ ممکنہ اقدام سے عالمی سپلائی چین اور بحری جہاز رانی کی صنعت کو ایک بار پھر بڑے دھچکے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ پاناما نہر بحر الکاہل اور بحر اوقیانوس کے درمیان تجارت کا ایک بنیادی پل ہے۔ماہرین اور بین الاقوامی اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بحران سے نہ صرف لاجسٹکس کے اخراجات بڑھیں گے بلکہ عالمی منڈیوں میں اشیاء کی ترسیل کے وقت میں بھی تاخیر متوقع ہے۔ نہر کے منتظمین حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور موسم کی بہتری کے لیے امید لگائے بیٹھے ہیں تاہم صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات کے طور پر نئے پابندیوں کے لائحہ عمل پر غور جاری ہے۔ دنیا بھر کے تجارتی اداروں اور شپنگ کمپنیوں کو اس ممکنہ رکاوٹ کے پیش نظر متبادل راستوں اور حکمت عملیوں پر کام کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔