LIVE
Loading Breaking News...

قطر کی وارننگ: ایران بحران سے صنعتی تباہی کا خطرہ

News Image
قطر نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ بحران کا سلسلہ جاری رہا تو خطے کو ایک بہت بڑی صنعتی تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دریں اثنا، اعداد و شمار کے مطابق آب تنگہ ہرمز سے گزرنے والی تجارتی جہاز رانی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
خلیجی ملک قطر نے موجودہ بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران سے جڑا یہ بحران مزید طویل ہوتا ہے تو پوری دنیا اور بالخصوص خطے کو ایک عظیم صنعتی تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ قطر کے حکام کا کہنا ہے کہ اس تنازعے کے معاشی اثرات انتہائی گہرے ہوں گے جن سے عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل اور صنعتی پیداوار کے لیے یہ صورتحال انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، میری ٹائم ٹریکنگ اور تجزیاتی ادارے 'کپلر' (Kpler) کے تازہ ترین اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انتہائی اہم سمندری گزرگاہ آب تنگہ ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں نچلی ترین سطح پر آ گئی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ دس دنوں کے دوران اس اہم آبی گزرگاہ سے روزانہ اوسطاً صرف 10 تجارتی جہاز ہی گزر سکے ہیں۔ یہ تعداد مئی کے بعد سے ریکارڈ کی جانے والی اب تک کی سب سے کم یومیہ اوسط ہے، جو کہ خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات اور تجارتی جمود کی عکاسی کرتی ہے۔ ماہرینِ معاشیات اور بین الاقوامی تعلقات کے محققین کا ماننا ہے کہ آب تنگہ ہرمز سے تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی نقل و حرکت میں یہ نمایاں کمی عالمی منڈیوں میں اضطراب پیدا کر رہی ہے۔ اس اہم تجارتی راستے پر رکاوٹیں یا جہاز رانی میں کمی براہ راست عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور صنعتی اداروں کے لیے خام مال کی دستیابی کو متاثر کر سکتی ہے۔ دنیا بھر کے ممالک اس بحران کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دے رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے معاشی اور صنعتی دھچکے سے بچا جا سکے۔