LIVE
Loading Breaking News...

سپریم کورٹ کا ہندو بچیوں کے وظیفے سے متعلق فیصلہ برقرار

News Image
سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پاکستان بیت المال کو دو ہندو بچیوں کو ماہانہ دس ہزار روپے وظیفہ دینے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریاستی اداروں کو پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے مالی مسائل کا خصوصی نوٹس لینا چاہیے۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ نے پیر کے روز ایک اہم فیصلے میں پاکستان بیت المال کی جانب سے دائر کی جانے والی وہ درخواست مسترد کر دی جس میں سندھ ہائیکورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت دو کمسن ہندو بچیوں کو ماہانہ مالی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سندھ ہائیکورٹ لاڑکانہ سرکٹ کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، جس میں بیت المال کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ دونوں بچیوں کو اپنے مستحقین میں رجسٹر کرے اور شادی تک انہیں ہر ماہ دس ہزار روپے فی بچی ماہانہ وظیفہ ادا کیا جائے، جس میں ہر سال دس فیصد اضافہ بھی کیا جائے گا۔ یہ پورا قانونی تنازع اس وقت شروع ہوا جب جیکب آباد کی ایک فیملی کورٹ میں شریتی ریتا نامی ہندو خاتون نے اپنے شوہر روی کمار کی وفات کے بعد بچیوں جیسیکا اور سانیکا کے لیے نفقہ حاصل کرنے کی غرض سے دائرہ کارروائی شروع کی۔ روی کمار 2017 میں خودکشی کر چکے تھے جبکہ بچیوں کے دادا رام راج خود بوڑھے، ضعیف اور کسمپرسی کی حالت میں ایک دھرم شالہ میں مقیم تھے اور ان کے پاس بھی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ فیملی کورٹ نے دادا کو ماہانہ تین ہزار روپے فی بچی ادائیگی کا حکم دیا تھا جس کے خلاف رام راج نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، جہاں ہائیکورٹ نے قانون کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کو مدنظر رکھتے ہوئے بیت المال کو بچیوں کو باقاعدہ امداد دینے کا حکم جاری کیا تھا۔ فیصلے میں چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے اہم آبزرویشن دی کہ عدالتیں اکثر ایسے مقدمات کا سامنا کرتی ہیں جہاں محض قانونی سوال کا حل فریقین کی اصل مشکلات کو ختم نہیں کرتا، اس لیے عدالتوں کو قانونی دائرہ کار سے آگے بڑھ کر زمینی حقائق اور انسانی مشکلات کا بھی ادراک کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ریاست میں ایسے فلاحی ادارے موجود ہوں تو عدالتیں ان کی معاونت حاصل کر سکتی ہیں تاکہ مستحق افراد تک ریلیف پہنچایا جا سکے بغیر اس کے کہ فلاحی ادارے کے انتظامی ڈھانچے کو نقصان پہنچے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں اس امر پر بھی زور دیا کہ یہ دونوں بچیاں ایک ایسے معاشرے سے تعلق رکھتی ہیں جو کہ اقلیتی برادری ہے اور انہیں سماجی و معاشی سطح پر زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اقلیتوں کے حقوق اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ریاستی اداروں کو زیادہ حساس ہونا چاہیے کیونکہ غربت اور خسران کے اثرات ان طبقات پر زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ بیت المال مستقبل کے مقدمات میں ایسے تمام معاملات کو اپنی پالیسی اور اہلیت کے معیار کے مطابق جانچ کر فلاحی امداد فراہم کرنے کا مجاز ہوگا۔