LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین امن مذاکرات: امریکی ایلچی کا پیش رفت کا دعویٰ

News Image
امریکی نمائندوں نے یوکرین اور روس کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے کیف میں اہم بات چیت کی۔ کریملن اور یوکرینی قیادت نے جنگ کے خاتمے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کا عندیہ دیا ہے۔
امریکی ایلچی نے یوکرین کے تنازع کو حل کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے دوران سہ فریقی مذاکرات کی سمت میں اہم پیش رفت دیکھے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی نمائندوں نے یوکرین میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کی ہیں جن کا مقصد یوکرین اور روس کے درمیان جاری طویل جنگ کے خاتمے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ ان مذاکرات میں خطے میں امن کی بحالی اور فریقین کے درمیان براہ راست رابطوں کی بحالی پر زور دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندوں وٹکوف اور کوشنر نے روسی صدر پوتین کے ساتھ بھی آئندہ کے لائحہ عمل اور جنگ بندی کے ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ دوسری جانب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ امریکی ایلچیوں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کے باوجود وہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ یہ تنازعہ آنے والے سردیوں کے موسم تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس کے باوجود سفارتی سطح پر جاری کوششیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ بین الاقوامی برادری اس بحران کا پرامن حل تلاش کرنے میں سنجیدہ ہے۔ ادھر ماسکو میں کریملن کے ترجمان نے بیان دیا ہے کہ روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا رہا۔ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید سفارتی دروازے ایک بار پھر کھلیں گے اور فریقین مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہوں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ زمینی حقائق تاحال کشیدہ ہیں اور جنگ کے فوری خاتمے کے آثار کم ہیں، تاہم اس نوعیت کے سفارتی رابطے طویل المدتی امن کے قیام کے لیے بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔