World
یمنی حکومت کا صنعا پر قبضے کا عزم، سعودی عرب میں حوثی حملے
یمنی حکومت نے حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے دارالحکومت صنعا کو دوبارہ واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب میں ہونے والے حوثی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 73 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یمنی حکومت نے دارالحکومت صنعا کو حوثی باغیوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے ایک فیصلہ کن جوابی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ صنعا کو واپس لینے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جا چکا ہے اور اسٹریٹجک حکمت عملی کے تحت پیش قدمی جاری ہے۔ اس پیشرفت کا مقصد ملک میں آئینی حکومت کی بحالی اور حوثی ملیشیا کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا ہے۔ یمنی قیادت کا عزم ہے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے اپنے تمام علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کریں گے۔
اسی دوران خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حالیہ حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب میں کم از کم 73 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان حملوں نے ایک بار پھر خطے کی سلامتی اور امن عامہ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور بین الاقوامی برادری میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
عالمی اور علاقائی طاقتیں یمن کی موجودہ صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کا گہرائی سے جائزہ لے رہی ہیں۔ یمنی حکومت کے اس نئے عزم اور جوابی کارروائی سے جنگ کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر تنازعہ مزید طول پکڑتا ہے تو اس کے انسانی اور سیاسی اثرات پورے خطے کے امن پر مرتب ہوں گے، جبکہ اتحادی ممالک کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں اور سکیورٹی اقدامات بھی تیز کر دیے گئے ہیں۔