Pakistan
وفاقی وزیر داخلہ کا سی ڈی اے فسیلیٹیشن سینٹر کا سرپرائز دورہ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کے سی ڈی اے فسیلیٹیشن سینٹر کا اچانک دورہ کیا اور وہاں موجود ایجنٹس کی موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے سینٹر میں فوری ڈیجیٹلائزیشن اور جامع اصلاحات نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع سی ڈی اے فسیلیٹیشن سینٹر کا اچانک دورہ کیا اور وہاں شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ دورے کے دوران وزیر داخلہ نے عوام کو درپیش مشکلات کا قریب سے مشاہدہ کیا اور نظام میں موجود خامیوں پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے فسیلیٹیشن سینٹر میں دلالوں اور مافیا کی موجودگی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایسے عناصر کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی جائے۔ وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کے کام قانونی اور شفاف طریقے سے ہونے چاہئیں اور کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
دورے کے دوران محسن نقوی نے فسیلیٹیشن سینٹر کے تمام سیکشنز کا معائنہ کیا اور سائلین سے براہ راست ملاقات کر کے ان کے مسائل سنے۔ شہریوں نے وزیر داخلہ کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا جس پر انہوں نے موقع پر موجود حکام کو فوری حل نکالنے کی ہدایات جاری کیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عام آدمی کو دفاتر کے چکر لگوانا اور مسائل کا شکار کرنا اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے فوری طور پر موثر اقدامات کریں اور سائلین کو ریلیف فراہم کرنے میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے۔
سی ڈی اے فسیلیٹیشن سینٹر کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے وزیر داخلہ نے فوری طور پر ڈیجیٹلائزیشن اور اصلاحات نافذ کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف کام میں شفافیت آئے گی بلکہ کرپشن اور بدعنوانی کے دروازے بھی بند ہوں گے۔ ڈیجیٹل نظام کے نفاذ سے شہری گھر بیٹھے اپنی درخواستوں کی پیش رفت دیکھ سکیں گے اور انہیں فسیلیٹیشن سینٹر کے بار بار چکر نہیں لگانا پڑیں گے۔ وزیر داخلہ نے اس عزم کا اعظادہ کیا کہ عوام کو بہترین سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو جلد از جلد مکمل کریں تاکہ عوام کو فوری طور پر اس کے ثمرات مل سکیں۔