World
آسلینڈ نے متنازع نقشے کے معاملے پر امریکی سفیر کو طلب کر لیا
آسلینڈ کی حکومت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ ایک متنازع نقشے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر لیا۔ ٹرمپ کی جانب سے نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے 'نیو امریکہ' رکھنے کی سوشل میڈیا مہم پر عالمی سطح پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
آسلینڈ نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ ایک متنازع نقشے کے معاملے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک مذاق اور ہوکس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ریاست نیو میکسیکو کو 'نیو امریکہ' کے طور پر لیبل کرنے والا ایک نقشہ آن لائن شیئر کیا۔ اس اقدام نے نہ صرف اندرون ملک بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور سفارتی حلقوں میں اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آسلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے امریکی سفیر سے وضاحت طلب کی ہے اور اسے دو طرفہ سفارتی آداب کے منافی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ میں بھی اس معاملے پر سیاسی ہلچل مچ گئی ہے جہاں ریپبلکن رہنماؤں نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر اس متنازع نقشے اور نام بدلنے کی اس مہم کی شدید مذمت کی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے غیر روایتی اقدامات بین الاقوامی تعلقات اور علاقائی خودمختاری کے تنازعات کو مزید ہوا دے سکتے ہیں، جس سے امریکہ کے روایتی اتحادیوں کے ساتھ بھی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ آسلینڈ کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سرحدوں اور خطوں کی خودمختاری کا مکمل احترام چاہتی ہے اور کسی بھی ایسی کوشش کو مسترد کرتی ہے جو عالمی قوانین یا علاقائی وقار کے خلاف ہو۔