Business
برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا امکان
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی رسد میں تعطل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ گولڈمین س্যাক্স نے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کے لیے اپنی پیشگوئیوں میں اضافہ کرتے ہوئے 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔
عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے اور برینٹ خام تیل کے دام تیزی سے 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کی طرف واپس بڑھ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بین الاقوامی سطح پر توانائی کے امور سے وابستہ ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ باوجود اس کے کہ رسد میں مختلف نوعیت کے تعطلات دیکھے جا رہے ہیں، تیل کی قیمتیں اس سطح پر کیوں نہیں پہنچ پا رہی تھیں تاہم اب صورتحال بدل رہی ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازع کے شدت اختیار کرنے کے خوف نے تاجروں اور سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس سے رسد میں بڑے پیمانے پر تعطل کے خدشات سر اٹھا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ایشیائی حصص بازاروں میں بھی من مانی بے یقینی دیکھی جا رہی ہے جہاں جاپانی ین کی قدر میں اچانک تیزی اور ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کے انتباہات نے مالیاتی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ سرمایہ کار ان جغرافیائی سیاسی خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ خلیجی خطے میں کسی بھی قسم کی فوجی یا سیاسی کشیدگی براہ راست تیل سپلائی کے اہم بحری راستوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس پورے منظر نامے میں عالمی مالیاتی ادارے بھی اپنی پوزیشن پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ معروف بینکاری ادارے گولڈمین س্যাক্স نے خام تیل کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں قیمتوں کے 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا حقیقی خطرہ موجود ہے۔ اس تنبیہ کے بعد ادارے نے برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ یعنی ڈبلیو ٹی آئی کے لیے اپنی آئندہ کی قیمتوں کی پیشگوئیوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ تجارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے مابین جاری رسہ کشی میں مزید شدت آتی ہے تو عالمی توانائی منڈی میں ایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے جس کے اثرات براہ راست عام صارفین، مہنگائی اور عالمی معیشت کی بحالی پر مرتب ہوں گے۔ ماہرین اقتصادیات نے تمام متعلقہ فریقین کو خبردار کیا ہے کہ وہ موجودہ حالات کے پیش نظر ہنگامی تیاری رکھیں کیونکہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔