World
مغربی کنارہ: اسرائیلی آباد کار کا فلسطینیوں پر حملوں کو جائز قرار دینے کا دعویٰ
مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر ہونے والے حملوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ایک اسرائیلی آباد کار نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ان پُرتشدد کارروائیوں کو انتقامی قرار دے کر درست ٹھہرایا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کے پرتشدد واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ اس دوران غیر قانونی بستیوں اور آؤٹ پوسٹس کی توسیع کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایسے ہی ایک حساس واقعے میں، مغربی کنارے کے ایک مقامی اسرائیلی آباد کار نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں اعتراف کیا اور دعویٰ کیا کہ فلسطینی آبادی پر کیے جانے والے حملے دراصل ان کے اپنے مطالبات اور سابقہ واقعات کا بدلہ ہیں، جنہیں وہ انتقام کے طور پر بالکل جائز سمجھتے ہیں۔ اس قسم کے بیانات خطے میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا دینے کا سبب بن رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی اور مقامی تنظیمیں اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں، کیونکہ ان کے مطابق حکومتی سرپرستی یا خاموشی کی وجہ سے آباد کاروں کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں اور عام فلسطینی شہریوں کا جینا محال ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے ایسے پرتشدد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے قانون کی بالادستی پر بھی سوالیہ نشان لگتے ہیں۔ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں زمینوں پر قبضے اور روزمرہ کی بنیاد پر ہونے والی جھڑپوں نے انسانی المیے کو جنم دے دیا ہے، جہاں عام شہریوں کا تحفظ خطرے میں پڑ چکا ہے۔ عالمی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس انتہائی کشیدہ نظر آتے ہیں اور پرتشدد کارروائیوں کا یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔