World
مغربی کنارا: فلسطینی طلباء خاردار تاروں میں اسکول جانے پر مجبور
مغربی کنارے کے گاؤں المغییر میں فلسطینی طلباء سخت حفاظتی انتظامات اور خاردار تاروں کے حصار میں اسکول واپس پہنچ گئے ہیں۔ رواں برس اس علاقے میں آباد کاروں کے پرتشدد واقعات کے دوران تین طلباء سمیت چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
مغربی کنارے کے علاقے المغییر میں فلسطینی طلباء کی اسکول واپسی انتہائی کسمپرسی اور خوف کے عالم میں ہوئی ہے جہاں انہیں اپنی حفاظت کے لیے خاردار تاروں کے حصار میں سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ علاقے میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد نے معصوم بچوں اور مقامی شہریوں کی زندگیوں کو اجیرن کر دیا ہے، جس کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ والدین اپنے بچوں کے مستقبل اور جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
رواں برس کے دوران اِس مخصوص علاقے میں تشدد کے ہولناک واقعات میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دستیاب حقائق کے مطابق صرف رواں سال ہی المغییر میں کل چھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں تین معصوم طلباء بھی شامل ہیں۔ ان پے در پے پُر تشدد واقعات نے نہ صرف علاقے کے نظامِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے بلکہ تعلیمی اداروں کو بھی غیر محفوظ بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے طلباء کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے انتہائی خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور مقامی اداروں نے مغربی کنارے میں فلسطینی آبادی بالخصوص بچوں کو درپیش خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسکول کے راستوں میں خاردار تاریں لگانا اور سکیورٹی کے سخت حفاظتی اقدامات کرنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہاں کے حالات کتنے دگرگوں ہو چکے ہیں۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لے تاکہ بچوں کا تعلیمی مستقبل محفوظ بنایا جا سکے اور انہیں پُرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔