LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کینیڈا تجارتی جنگ، کینیڈا کے جوابی ٹیرف نافذ

News Image
امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی تنازع کے تناظر میں کینیڈا کی جانب سے جوابی ٹیرف کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔ ان نئے اقدامات سے بیس ارب ڈالر مالیت کی امریکی مصنوعات متاثر ہوں گی، جس سے دونوں ممالک کے دوطرفہ تجارتی تعلقات کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
امریکہ اور کینیڈا کے مابین تجارتی امور پر کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب کینیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات پر نئے جوابی ٹیرف باضابطہ طور پر نافذ کر دیے گئے۔ اس تازہ اقدام کے نتیجے میں دنیا کے اس سب سے بڑے دوطرفہ تجارتی تعلق کی بنیادیں ہل گئی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق، اس کشیدگی سے نہ صرف سرحدی تجارت متاثر ہوگی بلکہ دونوں اطراف کی معیشتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ حاصل کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ نئے ٹیرف مجموعی طور پر بیس ارب ڈالر مالیت کی مختلف امریکی مصنوعات پر عائد کیے گئے ہیں۔ کینیڈا کا یہ فیصلہ واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ پچھلے اقدامات کا براہ راست جواب سمجھا جا رہا ہے، جس نے دونوں قریبی پڑوسیوں کے مابین تجارتی محاذ آرائی کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ عالمی سطح پر اس پیش رفت کو بڑی تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے سپلائی چین کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تجارت اور معیشت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ دنیا کے دو بڑے اور قریبی تجارتی شراکت داروں کے درمیان اس قسم کے تنازعات عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔ اگر اس معاملے کو جلد سفارتی اور بات چیت کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ کینیڈا اور امریکہ کے باہمی تعلقات کی تاریخ میں تجارتی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ مذاکرات کو ترجیح دی گئی ہے، تاہم حالیہ اقدام نے صورتحال کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔