LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ انتظامیہ ریفلیکٹنگ پول توڑ پھوڑ کا مقدمہ ختم، ٹھیکیداروں پر ذمہ داری

News Image
امریکی حکام نے سابقہ ​​موقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ لنکن میموریل ریفلیکٹنگ پول کو پہنچنے والا نقصان توڑ پھوڑ کا نتیجہ نہیں بلکہ مرمتی کام کرنے والے ٹھیکیداروں کی غفلت تھی۔ اس معاملے میں پہلے ایک سابق اولمپئن کھلاڑی پر الزام عائد کیا گیا تھا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی تھی۔
واشنگٹن ڈی سی میں واقع مشہور لنکن میموریل ریفلیکٹنگ پول کے حوالے سے ایک ڈرامائی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ٹرمپ انتظامیہ کے استغاثہ نے پول میں توڑ پھوڑ کا مقدمہ باضابطہ طور پر واپس لے لیا ہے۔ اس معاملے میں اب یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ ریفلیکٹنگ پول کو پہنچنے والا نقصان کسی مجرمانہ کارروائی یا توڑ پھوڑ کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ سب کچھ مرمتی کام کرنے والے ٹھیکیداروں کی نااہلی اور غلطی کی وجہ سے ہوا۔ اس انکشاف نے اس پورے واقعے کو ایک بالکل نیا رخ دے دیا ہے جس نے وفاقی سطح پر انتظامی کارکردگی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اس واقعے کو ایک سنگین جرم کے طور پر دیکھا جا رہا تھا اور انتظامیہ کی طرف سے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مبینہ توڑ پھوڑ کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی اور اس میں ملوث افراد کو 'بیمار ذہن' قرار دیا تھا۔ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب تفتیش کے دوران ایک سابق اولمپئن کھلاڑی کو اس مبینہ جرم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے باضابطہ طور پر چارج بھی کر دیا گیا تھا۔ تاہم، جیسے جیسے قانونی کارروائی آگے بڑھی اور تفتیش کے حقائق زیادہ واضح ہو کر سامنے آئے، استغاثہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ تفتیشی ٹیموں اور تکنیکی ماہرین کی رپورٹس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ پول کو پہنچنے والے نقصانات دراصل تعمیراتی اور مرمتی کاموں کے دوران ٹھیکیداروں کی غفلت کا نتیجہ تھے۔ اس نئی حقیقت کے سامنے آنے کے بعد پراسیکیوزرز کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا کہ وہ سابق اولمپئن پر لگائے گئے تمام الزامات کو فوری طور پر واپس لے لیں۔ اس فیصلے کے بعد جہاں ایک طرف ایک بے قصور شہری کو بڑی قانونی مشکل سے نجات مل گئی ہے، وہیں دوسری طرف وفاقی اداروں کے طریقہ کار اور ٹھیکیداروں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ شہری اور قانونی حلقوں کی جانب سے اس واقعے پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کس طرح ایک انتظامی اور مرمتی غلطی کو مجرمانہ رنگ دے کر ایک اعلیٰ شخصیت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔ حکام اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مرمتی کاموں کے دوران اس قسم کی سنگین غفلت کیوں برتی گئی اور مستقبل میں اس طرح کے غلط فیصلوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔