LIVE
Loading Breaking News...

آسٹریلیا میں سوشل میڈیا الگورتھمز کے خاتمے کا منصوبہ اور عوامی ردعمل

News Image
آسٹریلیا میں حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کمپنیوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ صارفین کو ذاتی نوعیت کے الگورتھمز سے باہر نکلنے کا آسان اختیار دیں۔ سڈنی کے شہریوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین کے پاس انتخاب کا حق ہونا ضروری ہے۔
آسٹریلیا میں حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا کے استعمال کو زیادہ محفوظ اور صارف دوست بنانے کے لیے نئے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم تجویز یہ ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ صارفین کو ذاتی نوعیت کے الگورتھمز یا پرسنلائزڈ فیڈز سے آسانی سے باہر نکلنے یعنی آپٹ آؤٹ کرنے کا اختیار فراہم کریں۔ اس قانون سازی کا مقصد آن لائن پلیٹ فارمز پر صارفین کے وقت کے ضیاع اور ذہنی دباؤ کو کم کرنا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے سڈنی کے مختلف علاقوں میں عام شہریوں سے اس مجوزہ منصوبے کے حوالے سے بات چیت کی اور ان کی آراء جانیں۔ شہریوں کی بڑی تعداد کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا الگورتھمز ہماری مرضی اور سوچ کو کنٹرول کر رہے ہیں، جس سے نجات پانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ شہریوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جان کر دلی سکون ملتا ہے کہ اب حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے سوچ رہی ہے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ بہت سے افراد کا یہ بھی ماننا تھا کہ سوشل میڈیا پر طویل وقت گزارنے کی بڑی وجہ یہی الگورتھمز ہیں جو انسان کو بار بار سکرول کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اگر صارفین کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ بغیر کسی الگورتھم کے صرف اپنے دوستوں اور اہم ترین معلومات کی حد تک مواد دیکھ سکیں، تو اس سے لوگوں کی ذہنی صحت پر بھی انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کا یہ قدم دنیا بھر کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ڈیٹا کے استعمال اور صارفین کی نفسیات پر قابو پانے کے طریقوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس قانون سازی کے حتمی مسودے اور سوشل میڈیا کمپنیوں کے ردعمل پر سب کی نظریں مرکوز ہوں گی، جبکہ عام صارفین اس تبدیلی کو عملی جامہ پہنتے دیکھنے کے منتظر ہیں۔