LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کے تیسرے بڑے ٹیکس دہندہ کرس روکوس یونان منتقل

News Image
برطانیہ کے تیسرے سب سے بڑے ٹیکس دہندہ کرس روکوس نے یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں نیا دفتر کھولنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ سنڈے ٹائمز کی ٹیکس دہندگان کی فہرست میں ان کا نمایاں تیسرا مقام تھا۔
برطانیہ کے مالیاتی حلقوں میں اس وقت ایک بڑی ہلچل مچ گئی ہے جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ ملک کے تیسرے سب سے بڑے انفرادی ٹیکس دہندہ کرس روکوس نے یونان منتقل ہونے کا ارادہ کر لیا ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق، مشہور ہیج فنڈ مینیجر کرس روکوس یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں اپنا ایک نیا دفتر قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس قدم کو برطانوی ٹیکس اور معاشی پالیسیوں کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ سنڈے ٹائمز کی جانب سے جاری کی جانے والی ٹیکس دہندگان کی تازہ ترین فہرست میں کرس روکوس نے تیسری پوزیشن حاصل کی تھی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ برطانوی خزانے میں اربوں روپے کا ٹیکس جمع کرواتے ہیں۔ ان کا برطانیہ سے اپنے کاروبار کا ایک حصہ یونان منتقل کرنا اور ایتھنز میں نئی سرگرمیاں شروع کرنا برطانوی حکومت کے لیے ایک بڑا دھمکا تصور کیا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی سے برطانیہ کی ٹیکس وصولی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، یونان کے لیے کرس روکوس کا یہ فیصلہ معاشی اعتبار سے انتہائی خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ ایتھنز میں اس طرح کے بڑے مالیاتی کھلاڑی کی آمد سے یونانی معیشت کو تقویت ملے گی اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے اندر ٹیکس اور کاروباری ماحول کی تبدیلیاں اب بڑے سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں، جس کی ایک واضح مثال کرس روکوس کا یہ تازہ ترین فیصلہ ہے۔ ابھی تک کرس روکوس یا ان کے ترجمانوں کی جانب سے اس منتقلی کی حتمی تاریخ یا مکمل تفصیلات کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، تاہم ایتھنز میں دفتر کے قیام کی خبریں تصدیق شدہ بتائی جا رہی ہیں۔ برطانوی میڈیا اور مالیاتی ادارے اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف ٹیکس ریونیو متاثر ہوگا بلکہ بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کے رجحانات میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔