World
ایران میں ایندھن کی قیمتیں بڑھ گئیں، حکومت کی شہریوں سے کھپت گھٹانے کی اپیل
ایران میں حکومت نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور کھپت پر قابو پانے کے لیے شہریوں سے استعمال میں کمی کی اپیل کی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت ماہانہ ایک سو دس لیٹر سے زائد استعمال پر قیمت دوگنی ہو کر ایک لاکھ ریال فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
ایران میں حکومت نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر تمام شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ پٹرول اور دیگر توانائی کے ذرائع کے استعمال میں فوری طور پر کمی کریں۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ اقدام ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کو قابو میں لانے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ ملکی معیشت کو مزید استحکام فراہم کیا جا سکے۔
نئی متعارف کروائی گئی ایندھن کی قیمتوں کی پالیسی کے تحت، وہ تمام صارفین جو ماہانہ ایک سو دس لیٹر سے زیادہ ایندھن کی کھپت کرتے ہیں، انہیں اب نمایاں طور پر زیادہ قیمت ادا کرنا ہوگی۔ نئی ہدایات کے مطابق اس حد سے تجاوز کرنے پر ایندھن کی قیمت دوگنی ہو کر ایک لاکھ ریال فی لیٹر تک جا پہنچی ہے، جس سے عام صارفین پر مالی بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ملک کے اندر توانائی کے وسائل کو بچانے اور غیر ضروری ضیاع کو روکنے کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔ عالمی پابندیوں اور اندرونی معاشی چیلنجز کے درمیان ایران کو توانائی کے شعبے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور حکومت چاہتی ہے کہ عوام اس مشکل وقت میں قومی کوششوں کا ساتھ دیں۔
دوسری جانب، شہریوں اور ماہرین معاشیات نے اس قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس سے پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ حکومتی اداروں کا البتہ کہنا ہے کہ اگر کھپت کو کنٹرول نہ کیا گیا تو مستقبل میں توانائی کے بحران کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے، اس لیے یہ سخت فیصلے کرنا مجبوری بن چکے ہیں۔