LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا پیک ایک ماؤنٹین اور امریکی حملے کی دھمکی کی حقیقت

News Image
بی بی سی ویریفائی نے ماہرین سے گفتگو اور سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کر کے ایران کے اس خفیہ مقام کی تفصیلات سامنے لائی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس پہاڑ کو نشانہ بنانے کے بیانات کے بعد عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔
ایران میں واقع ایک خفیہ اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل پہاڑی مقام، جسے 'پیک ایک ماؤنٹین' کہا جاتا ہے، حالیہ دنوں میں بین الاقوامی میڈیا اور امریکی سیاسی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سابق امریکی صدر اور دوبارہ صدارت کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ وہ اس مقام کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں، دنیا بھر میں اس کی جغرافیائی اور فوجی اہمیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بی بی سی ویریفائی نے اس حوالے سے دفاعی ماہرین سے تفصیلی گفتگو کی ہے اور دستیاب سیٹلائٹ تصاویر کا گہرائی سے تجزیہ کیا ہے تاکہ اس مقام کی اصل حقیقت اور اس پر ممکنہ امریکی یا اسرائیلی حملے کے اثرات کا تخمینہ لگایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پہاڑی سلسلہ انتہائی حساس نوعیت کی تنصیبات اور عسکری سرگرمیوں کا مرکز ہو سکتا ہے، اسی وجہ سے اسے دشمن ممالک کی طرف سے ہدف بنائے جانے کا خطرہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ تاحال ایران کی جانب سے ان دعوؤں اور بیانات پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام دفاعی اقدامات کو انتہائی چوکنا کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حساس مقامات پر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی خطے میں ایک نئی اور تباہ کن جنگ کو جنم دے سکتی ہے، جس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی لائنز کو شدید نقصان پہنچائیں گے۔ بین الاقوامی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور سفارتی سطح پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مختلف زاویوں سے کوششیں جاری ہیں۔