World
ایفل ٹاور خواتین عملے کے تنازع کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا
فرانس کے مشہور سیاحتی مقام ایفل ٹاور کو خواتین عملے کی برطرفی کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب ایک ہندو مذہبی وفد نے دورے کے دوران خواتین عملے سے محدود تعامل کی درخواست کی تھی۔
پیرس کی مشہور ترین علامت اور دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ایفل ٹاور کو خواتین عملے سے متعلق تنازع پر ہونے والے احتجاج کے بعد بالآخر دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ ٹاور کی انتظامیہ کے مطابق، حالات مکمل طور پر معمول پر آ چکے ہیں اور سیاحوں کی آمد و رفت بلا تعطل جاری ہے۔ اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر میڈیا کی توجہ حاصل کی اور عوامی حلقوں میں اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا۔ یہ سارا تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایک ہندو مذہبی وفد نے ایفل ٹاور کا دورہ کیا اور مبینہ طور پر یہ درخواست کی کہ دورے کے دوران خواتین عملے کے ساتھ تعامل کو محدود یا کم کیا جائے۔ اس درخواست پر انتظامیہ کے کچھ اندرونی فیصلوں کے خلاف عملے اور یونینز کی طرف سے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا، جس کے نتیجے میں وقتی طور پر ٹاور کے امور متاثر ہوئے اور حفاظتی اقدامات کے پیش نظر اسے عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔ بعد ازاں، متعلقہ حکام نے تمام فریقین سے بات چیت کی اور تمام مسائل کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کی۔ انتظامیہ کی طرف سے واضح کیا گیا کہ کام کی جگہ پر مساوات اور احترام کے اصولوں پر سختی سے کاربند رہا جائے گا اور کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد ملازمین نے احتجاج ختم کر دیا اور کام پر واپس لوٹ آئے، جس کے بعد ٹاور کے دروازے ایک بار پھر سیاحوں کے لیے کھول دیے گئے۔ سیاحوں نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کیا ہے اور اب پیرس آنے والے مسافر معمول کے مطابق اس تاریخی مقام سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔