World
اسرائیلی وزرا کی غزہ کی آبادی کے انخلا کی پالیسیاں
اسرائیلی وزرا کی جانب سے غزہ کی آبادی کو زبردستی منتقل کرنے اور وہاں سے آبادی کے انخلا کی پالیسیوں پر کھل کر بات کی جا رہی ہے۔ مغربی کنارے میں جاری انہار کی کارروائیوں اور غزہ میں بڑھتی ہوئی اموات کے تناظر میں نسلی تطہیر کے نعرے اب سرکاری پالیسی کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
فلسطینی امور پر نظر رکھنے والے حلقوں کے مطابق غزہ کی پٹی سے متعلق اسرائیلی حکومت کے اندرونی حلقوں اور وزرا کی جانب سے انتہائی خطرناک اور تشویشناک بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ حالیہ ہفتے کے دوران یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی وزرا کی جانب سے غزہ کی بستیوں کو خالی کرانے اور وہاں سے فلسطینی آبادی کے انخلا کے منصوبوں پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ یہ تمام اقدامات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب زمینی حقائق انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر چکے ہیں اور خطے میں انسانی بحران دن بدن گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں جو باتیں محض سیاسی نعروں کی حد تک محدود تھیں، وہ اب باقاعدہ پالیسی تجاویز کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ غزہ میں ہونے والی تباہی اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ دوسری طرف مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں گھروں اور عمارتوں کو گرانے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جس سے ہزاروں مقامی باسی بے گھر ہو رہے ہیں اور ان کی زندگی اجنبی بن چکی ہے۔
ان تمام اقدامات کے باعث بین الاقوامی برادری بالخصوص انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ کی آبادی کو جبری طور پر بے دخل کرنے کی یہ کوششیں بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ دنیا بھر میں امن کے حامی ادارے اسرائیل سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر ان تباہ کن پالیسیوں سے گریز کرے تاکہ خطے میں مزید خون خرابے کو روکا جا سکے اور متاثرہ لوگوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔