World
ملادیچ کی تدفین اور عالمی انصاف کے تقاضے
بین الاقوامی انصاف کے تیس سالہ سفر کے باوجود سیاسی رہنماؤں نے ماضی کی غلطیوں سے بہت کم سبق سیکھا ہے۔ ملادیچ کی تدفین کے تناظر میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ عالمی برادری امن اور انصاف کے قیام میں کیوں ناکام رہی ہے۔
بین الاقوامی انصاف کے سفر کو تیس سال مکمل ہو چکے ہیں، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے سیاسی رہنماؤں نے ان تین دہائیوں کے دوران بہت کم سبق سیکھا ہے۔ جنگی جرائم، انسانی حقوق کی پامالیوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف قائم ہونے والے اداروں کی کارکردگی پر اب بھی سوالیہ نشان موجود ہیں۔ حالیہ دنوں میں ملادیچ کی تدفین اور اس سے جڑے واقعات نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے افراد انسانی جانوں اور انصاف کے تقاضوں کے مقابلے میں سیاسی مصلحتوں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جب تک سیاسی عزم پختہ نہیں ہوگا اور بین الاقوامی قوانین کا نفاذ بلا امتیاز نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک دنیا میں دیرپا امن کا قیام خواب ہی رہے گا۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جنگی مجرموں کے احتساب کے بعد بھی دنیا کے مختلف حصوں میں ناانصافی کا سلسلہ جاری ہے۔ ماضی کے واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی برادری نے تنازعات کو روکنے کے بجائے ان کے حل کے لیے صرف سطحی اقدامات پر اکتفا کیا ہے۔ ملادیچ جیسے کرداروں کے عروج اور انجام سے یہ سبق ملنا چاہیے تھا کہ نفرت انگیز نظریات اور نسل پرستی کو بروقت نہ روکا جائے تو اس کے نتائج کتنے خوفناک ہو سکتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ممالک اور عالمی ادارے اپنی ذمہ داریوں کا از سر نو جائزہ لیں تاکہ مستقبل میں ایسے المیوں سے بچا جا سکے اور دنیا کو ایک پرامن اور منصفانہ خطہ بنایا جا سکے جہاں قانون کی بالادستی ہو۔