LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈا کا امریکہ پر بیس ارب ڈالر کے سامان کے جوابی ٹیرف کا نفاذ

News Image
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب کینیڈا نے امریکی اقدام کا جواب دیتے ہوئے بیس ارب ڈالر مالیت کی امریکی اشیاء پر جوابی ٹیرف نافذ کر دیے۔ یہ جوابی اقدامات سات سو سے زائد مصنوعات اور مختلف صنعتوں کو براہ راست متاثر کریں گے۔
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات میں کشیدگی اس وقت نئی بلندیوں کو چھونے لگی جب کینیڈا نے باضابطہ طور پر امریکہ سے درآمد کی جانے والی بیس ارب ڈالر مالیت کی اشیاء پر جوابی ٹیرف نافذ کر دیے۔ کینیڈین حکام کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم امریکہ کے اس فیصلے کا فوری ردعمل ہے جس میں کینیڈین مصنوعات کو ہدف بنایا گیا تھا۔ مبصرین کے مطابق دونوں قریبی پڑوسیوں کے مابین اس تجارتی محاذ آرائی سے دوطرفہ تجارت کو شدید دھچکا لگنے کا اندیشہ ہے۔ نئے نفاذ کے تحت کینیڈا نے ڈالر کے مقابلے میں ڈالر کا اصول اپناتے ہوئے امریکی سامان پر اسی شدت کے ساتھ ڈیوٹی عائد کی ہے جس سے تقریبا سات سو مختلف مصنوعات اور متعدد اہم صنعتی شعبے براہ راست متاثر ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا اور واشنگٹن پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ اپنے تجارتی فیصلوں پر نظرثانی کرے۔ متاثر ہونے والی صنعتوں میں مینوفیکچرنگ، زراعت اور روزمرہ استعمال کی اشیاء سرفہرست ہیں۔ بین الاقوامی اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی سپلائی چین متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ کینیڈا اور امریکہ صدیوں سے قریبی تجارتی شراکت دار رہے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں پالیسیوں کے اختلافات نے اس شراکت داری کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر امریکی انتظامیہ نے اپنی محصولات کی پالیسی میں نرمی نہ دکھائی تو کینیڈا مزید جوابی اقدامات سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔ کاروباری حلقوں اور تاجروں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے مذاکرات کے ذریعے تنازعہ حل کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ معاشی استحکام کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔