World
سعودی عرب میں حوثی حملے، توانائی کی تنصیبات متاثر اور 73 زخمی
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ستر سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ سعودی حکام نے اس واقعے کو ایک خطرناک کشیدگی قرار دیتے ہوئے اپنے دفاع میں تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کرنے والے ملک سعودی عرب میں منگل کے روز توانائی کی بعض تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد کام عارضی طور پر روک دیا گیا۔ یہ حملے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے کیے گئے جن کے نتیجے میں تہتر افراد زخمی ہو گئے۔ سعودی حکام نے اس کارروائی کو ایک خطرناک کشیدگی قرار دیا ہے جبکہ مملکت کی وزارتِ خارجہ نے جنوبی شہروں ابھا، خمیس مشیت، جازان اور نجران میں شہری اور معاشی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزارت کے مطابق زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
حملوں کے نتیجے میں تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی جس پر قابو پانے اور نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے فائر فائٹنگ اور دیگر ہنگامی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ سعودی وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام ان حملوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں۔ وزارت کا مزید کہنا تھا کہ تنصیبات اور کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ منظور شدہ آپریشنل منصوبوں کے تحت کام کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔ سعودی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ریاض اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کے لیے تمام ضروری قدم اٹھائے گا اور اس ملیشیا کی طرف سے جاری تمام تر جارحیت کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
اس تازہ کشیدگی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں برینٹ کریوڈ کے سودے ایک ڈالر اضافے کے ساتھ اڑانوے ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔ مبصرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سفارتی کوششوں میں تعطل کے باعث توانائی کی فراہمی کے راستے شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ سعودی زیر قیادت اتحاد نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ اس دہشت گردانہ رویے کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا تاکہ تنصیبات اور بین الاقوامی تجارتی راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے.