LIVE
Loading Breaking News...

کراچی میئر دفتر میں آگ، کے ایم سی بلڈنگ کا واقعہ

News Image
کراچی کی تاریخی کے ایم سی بلڈنگ میں واقع میئر مرتضیٰ وہاب کے دفتر کے اے سی کے بیرونی یونٹ میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑک اٹھی۔ ریسکیو حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا اور اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
کراچی کے صدر میں واقع تاریخی کراچی میطروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی عمارت میں اس وقت بھگدڑ مچ گئی جب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے دفتر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ حکام کے مطابق یہ آتشزدگی عمارت کی پہلی منزل پر واقع میئر کے دفتر کے ایئر کنڈیشنر کے بیرونی یونٹ میں پیش آئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر مکمل قابو پالیا۔ ساؤتھ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) اسد رضا نے میڈیا کو بتایا کہ یہ ایک معمولی نوعیت کی آگ تھی جو کہ مبینہ طور پر اے سی میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان الحسیب خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اس حادثے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آگ کی وجہ سے صرف ایئر کنڈیشنر کا بیرونی یونٹ ہی متاثر ہوا ہے جبکہ دفتر کے اندرونی حصے کو کسی بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق شارٹ سرکٹ ہی اس حادثے کی بنیادی وجہ قرار دی جا رہی ہے، جس کے بعد عمارت کے الیکٹرک سسٹم کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان بھر میں عمارتوں میں ناقص بنیادی ڈھانچے، حفاظتی ضوابط پر کمزور عمل درآمد اور غفلت کے باعث آتشزدگی کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ ملک کی بیشتر عمارتوں میں ہنگامی اخراج کے راستے، فائر الارمز اور دیگر حفاظتی اقدامات کا فقدان پایا جاتا ہے جبکہ بوسیدہ وائرنگ اور اوور لوڈڈ پاور سسٹمز شارٹ سرکٹ کے خطرات کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ صرف کراچی شہر میں ہی گزشتہ چند مہینوں کے دوران فیکٹریوں، شاپنگ مالز اور رہائشی عمارتوں میں آتشزدگی کے کئی بڑے اور چھوٹے واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں قیمتی املاک کا نقصان اور انسانی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں۔ ماہرین اور شہری امور کے ناقدین کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر کی اہم تاریخی اور سرکاری عمارتوں میں فائر سیفٹی کے جدید نظام کا نفاذ اور باقاعدہ آڈٹ ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس طرح کے حفاظتی اقدامات کے بغیر اس قسم کے حادثات پر قابو پانا اور شہریوں یا اہم شخصیات کی املاک کو محفوظ بنانا ممکن نہیں ہوگا۔ کے ایم سی بلڈنگ کے اس واقعے نے ایک بار پھر شہر بھر کی عمارتوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات کا جائزہ لینے کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔