Politics
ای سی سی کا اجلاس، بلٹ پروف گاڑیوں کے لیے فنڈز منظور
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 2027ء میں ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس کے لیے بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں دانش سکول اتھارٹی فنڈ اور گدون سے گدھے کے گوشت کی برآمد کے امور پر بھی اہم فیصلے کیے گئے۔
اسلام آباد میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک کے اہم معاشی اور انتظامی امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران سال 2027 میں پاکستان میں متوقع شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے لیے خصوصی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ ای سی سی نے اجلاس کے سیکورٹی اور مہمانوں کی نقل و حمل کو بہتر بنانے کی غرض سے 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 6.6 ارب روپے (تقریباً 23.8 ملین ڈالر) کے فنڈز کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس مد میں پہلے زیادہ بجٹ کی تجاویز تھیں جنہیں کمیٹی کی جانب سے عقلی خطوط پر استوار کرتے ہوئے کم کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ای سی سی کے اس اجلاس میں تعلیمی شعبے بالخصوص دانش سکول اتھارٹی فنڈ کے لیے بھی 5 ارب روپے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ ملک کے پسماندہ علاقوں میں معیاری تعلیم کے فروغ کے منصوبوں کو بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔ حکومت کی جانب سے تعلیم کے فروغ اور تعلیمی اداروں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے یہ ایک اور بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے ہزاروں مستحق طلبا و طالبات کو فائدہ پہنچے گا اور تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی۔
اجلاس کے دوران تجارت اور برآمدات سے جڑے دیگر امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک کی برآمدات کو بڑھانے کے سلسلے میں ایک اہم فیصلے کے تحت گوادر سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد کی بھی اجازت دیدی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دینا اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنا ہے۔ ای سی سی کے ان تمام فیصلوں کا مقصد جہاں ایک طرف بین الاقوامی تقریبات کے لیے بہترین حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا ہے، وہیں دوسری طرف ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے نئے راستے تلاش کرنا بھی ہے۔