World
امریکہ مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی کم کرنے کا خواہاں
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور حالیہ خطرات کے بعد واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کو کم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ عسکری اور انٹیلی جنس حکام نائن الیون کے بعد کی روایتی حکمت عملی کو تبدیل کرنے کے لیے نئے خطوط پر غور کر رہے ہیں۔
امریکہ نے مبینہ طور پر ایران کے ساتھ ممکنہ کشیدگی اور جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی قدموں کے نشان کو نمایاں طور پر سکڑانے کا منصوبہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی عسکری اور انٹیلی جنس حکام اس بات پر سنجیدہ غور کر رہے ہیں کہ خطے میں روایتی اور بھاری فوجی موجودگی کو کم کرکے ایک نئی اور لچکدار حکمت عملی اپنائی جائے۔ نائن الیون کے بعد کے طویل عرصے میں امریکہ نے خطے میں اپنی فوج اور اثاثوں کا ایک بہت بڑا جال بچھایا تھا، لیکن حالیہ پیش رفت نے واشنگٹن کو اس پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حالیہ ایرانی جوابی سٹرائیکس اور خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال نے امریکی دفاعی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس پس منظر میں پینٹاگون اور دیگر اہم قومی سلامتی کے ادارے ایسے متبادل لائحہ عمل پر کام کر رہے ہیں جس کے تحت مشرق وسطیٰ میں روایتی فوجی اڈوں اور مستقل دستوں پر انحصار کم کیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی قیادت اب خطے کے بجائے دیگر اسٹریٹجک چیلنجز، خصوصاً ایشیا پیسیفک کے امور پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی خواہشمند ہے، جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں فوجی اثر و رسوخ کو محدود کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، غزہ سے لے کر آبنائے ہرمز تک پھیلے ہوئے جغرافیائی تنازعات اور سٹریٹجک تعطل نے اس خطے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خطے کے سیاسی اور عسکری منظرنامے میں آنے والی ان تبدیلیوں کے اثرات دور رس ہوں گے۔ اگرچہ امریکہ خطے سے مکمل طور پر دستبردار نہیں ہو رہا، لیکن اس کی عسکری موجودگی کی نوعیت اور حجم میں بڑی تبدیلی آنے کا قوی امکان ہے۔ واشنگٹن کی نئی حکمت عملی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں امریکہ مشرق وسطیٰ میں براہ راست فوجی مداخلت کی بجائے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اور محدود وسائل کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا۔