Pakistan
اسلام آباد ہائی کورٹ کا پی ٹی آئی احتجاج کے خلاف لارجر بنچ تشکیل دینے کا فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد مارچ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے لیے ایک لارجر بنچ تشکیل دیدیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے پر اٹارنی جنرل اور آئی جی پیز کو بھی طلب کر لیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اعلان کردہ ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد مارچ کے خلاف دائر کی گئی قانونی چیلنج پر سماعت کے لیے ایک لارجر بنچ تشکیل دے دیا ہے۔ عدالت عالیہ کا یہ قدم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں سیاسی کشیدگی عروج پر ہے اور اپوزیشن جماعت اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی نے اس دوران لاہور میں بھی جلسے کا اعلان کیا ہے جبکہ پارٹی رہنماؤں کی جانب سے کارکنان کے خلاف مبینہ کریک ڈاؤن کی شکایات بھی سامنے آرہی ہیں۔عدالت کی جانب سے اس اہم قانونی چیلنج کی سماعت کے لیے بنائے گئے لارجر بنچ نے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس دوران عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور تمام متعلقہ انسپکٹرز جنرل آف پولیس (آئی جی پیز) کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کر لیا ہے۔ عدالت یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے انتظامیہ نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ قدم اس معاملے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ دارالحکومت میں احتجاج کے دوران امن و امان کی بحالی ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اس قانونی کارروائی اور انتظامی رکاوٹوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج کرنا ہر سیاسی جماعت کا آئینی اور جمہوری حق ہے، جسے طاقت کے زور پر دبایا نہیں جا سکتا۔ جماعت کے ترجمان کے مطابق ملک بھر میں کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور گرفتاریوں کا سلسلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت سیاسی مخالفت برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ تاہم، وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا موقف ہے کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔آنے والے دنوں میں اس لارجر بنچ کی کارروائی ملک کی سیاسی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ عوام اور سیاسی حلقوں کی نظریں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں پر لگی ہوئی ہیں کہ عدالت اس کشمکش کے حل کے لیے کیا لائحہ عمل طے کرتی ہے۔