LIVE
Loading Breaking News...

نئے صوبوں پر بحث: اپوزیشن کا حکومت کو ہنگامی فیصلوں سے گریز کا مشورہ

News Image
ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بحث گرم ہو گئی ہے جہاں اپوزیشن اور پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کو خبردار کیا ہے۔ پی ٹی آئی نے عوامی مینڈیٹ اور رضامندی کے بغیر کسی بھی تقسیم کو وفاق کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔
اسلام آباد (نکسورا نیوز) ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے سیاسی گہما گہمی میں اس وقت اضافہ ہو گیا جب اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف نے موجودہ حکومت کو اس حساس معاملے پر کسی بھی قسم کے جلد بازی کے فیصلے سے سختی سے گریز کرنے کا انتباہ جاری کیا۔ حالیہ دنوں میں نئے صوبوں کے قیام کے موضوع نے ملکی سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر زور پکڑ لیا ہے، جس پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں اور پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اہم اور بنیادی نوعیت کے معاملات کو سیاسی مفادات کے لیے نہیں بلکہ قومی مفاد اور وسیع تر عوامی مشاورت کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔ رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اگر عوام کی رضامندی اور آئینی تقاضوں کو پس پشت ڈال کر صوبوں کی تقسیم یا تشکیل نو جیسے اقدامات کیے گئے، تو اس سے وفاقِ پاکستان مزید کمزور ہو سکتا ہے جو کہ ملکی سلامتی کے مفاد میں نہیں ہے۔ دوسری جانب سندھ اور دیگر صوبوں سے بھی اس بحث پر تند و تیز ردعمل سامنے آئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے وفاقی حکومت میں شامل بعض ایسے وزراء کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ مبینہ طور پر فارم 47 کے تحت اقتدار میں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے ایسے عناصر کو ملک کی جغرافیای اور انتظامی ساخت میں تبدیلی کا کوئی اخلاقی یا آئینی حق حاصل نہیں ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام بظاہر ایک انتظامی ضرورت ہو سکتا ہے لیکن اس وقت ملک جس اقتصادی اور سیاسی بحران سے گزر رہا ہے، اس میں اس نوعیت کے متنازع اور جذباتی فیصلے ریاست کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی یکطرفہ قانون سازی یا آئینی ترمیم کو عوام میں پذیرائی نہیں ملے گی اور اس کے خلاف ایوان کے اندر اور باہر بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بیٹھ کر سنجیدہ مذاکرات کرنے چاہئیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے اور ملک کو مزید سیاسی عدم استحکام کا شکار ہونے سے روکا جا سکے۔