World
ایران کی امریکہ کو دھمکی، خلیج میں نیا نو گو زون بنانے کا اعلان
ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک نئی پابندی یا نو گو زون کے قیام کا اعلان کیا ہے جس سے خطے میں امریکی بحری جنگی جہازوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو براہ راست نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس اقدام سے مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی میں مزید خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
تہران: ایران کی جانب سے خطے میں ایک بار پھر عسکری محاذ آرائی کو ہوا دیتے ہوئے امریکی بحری جنگی جہازوں کو جدید ترین میزائلوں سے نشانہ بنانے کی شدید دھمکی دی گئی ہے۔ ایرانی حکام نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتہائی حساس اور اہم آبی گزرگاہ کے قریب ایک نئی 'تاریکی یا بندش زون' یعنی ایکسکلوزن زون قائم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ اس پیش رفت کا بنیادی مقصد خلیجی خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور بین الاقوامی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر دباؤ بڑھانا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئے اسٹریٹجک اقدام کے بعد خطے میں پہلے سے موجود تناؤ میں شدید اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں خلیج فارس کے پانیوں اور اس کے اطراف کے علاقوں میں فریقین کے درمیان جھڑپوں اور حملوں کے واقعات میں تیزی آئی ہے، جس پر تہران نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کا سلسلہ جاری رکھا گیا تو تہران کی جانب سے زیادہ تیز، بھاری اور انتہائی تکلیف دہ ردعمل سامنے آئے گا۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی تجارتی راستے پر اپنی برتری اور دفاعی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی سپلائی لائنز بھی براہ راست متاثر ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب، دفاعی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ آیا ایران بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں واقعتاً اس نوعیت کا کوئی مؤثر اور باقاعدہ نو گو زون نافذ کرنے کی عملی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ یہ سمندری راستہ دنیا بھر کے لیے تیل کی ترسیل کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی بندش یا یہاں کسی بھی قسم کی جنگی کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں میں طوفان برپا کر سکتی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک پہلے ہی خطے میں اپنی بحری موجودگی کو چوکس رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ایرانی کارروائی کا فوری اور منہ توڑ جواب دیا جا سکے، جس سے آنے والے دنوں میں خطے میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔