LIVE
Loading Breaking News...

ایرانی صدر پزشکیان کا بیان جارحیت کے خلاف دفاع جاری رہے گا

News Image
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران اپنے خلاف ہونے والی کسی بھی جارحیت کے خلاف بھرپور انداز میں دفاع جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مزاحمت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دشمنوں کو اپنے اقدامات پر مکمل ندامت نہیں ہوتی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تہران اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور جارح قوتوں کے خلاف مزاحمت کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حملہ آوروں کو اپنے مذموم عزائم پر مکمل شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ صدر پزشکیان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی سطح پر صورتحال انتہائی نازک موڑ اختیار کر چکی ہے۔ اس تنازع کے دوران عالمی طاقتیں بھی سفارتی سطح پر متحرک ہیں، جہاں چین جیسی بڑی معیشتوں کی جانب سے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایرانی قیادت کا موقف ہے کہ جب تک ان کے خلاف اقدامات کا سلسلہ نہیں رکتا، تہران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے پرعزم رہے گا اور کسی بھی دباؤ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گا۔ دریں اثنا، اندرونی سطح پر ایران مختلف شعبوں میں ترقی اور سکیورٹی کے امور پر بھی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جس کی حالیہ مثال ملک میں جدید تعلیمی اور انتظامی نوعیت کے اسکولوں کا افتتاح بھی ہے۔ تاہم، خارجہ امور کے محاذ پر ایران کی موجودہ پالیسی جارحیت کے مقابلے اور قومی مفاد کے تحفظ کے گرد گھومتی ہے، جس سے خطے کی آئندہ صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔