Business
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1900 پوائنٹس گر گیا
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی خدشات کی وجہ سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے دوران شدید مندی دیکھی گئی۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس میں انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران 1900 پوائنٹس تک کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے دوران شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا جہاں مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی خدشات کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران بازارِ حصص میں 1900 پوائنٹس تک کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جس سے مارکیٹ میں مندی کے بادل چھائے رہے۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ خطے میں پیدا ہونے والی حالیہ صورتحال اور عالمی مالیاتی منڈیوں کے منفی اثرات براہ راست پاکستانی سرمائے پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور مقامی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق اس سے قبل بھی پاکستانی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری تھا لیکن حالیہ مشرق وسطیٰ کے بحران نے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے پر مجبور کر دیا۔ اس خوف کی وجہ سے بڑی تعداد میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا جس سے انڈیکس تیزی سے نیچے کی طرف آیا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کی جغرافیائی سیاسی صورتحال اکثر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے مختصر مدت میں مشکلات پیدا کرتی ہے کیونکہ بیرونی سرمایہ کار خطرے سے بچنے کے لیے اپنے اثاثے محفوظ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
کاروباری روز کے اختتام پر سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی کُل فروخت نے مارکیٹ کے حجم کو خاصا متاثر کیا۔ اگرچہ پاکستانی معیشت کے حوالے سے حالیہ مہینوں میں کچھ مثبت اشاریے بھی سامنے آئے تھے اور بعض سیکٹرز ریکارڈ سطح پر بھی ٹریڈ کر رہے تھے، تاہم عالمی سطح پر رونما ہونے والے واقعات نے مقامی سرمایہ کاروں کے جذبات کو منفی طور پر متاثر کیا۔ کاروباری حلقے اب اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ خطے میں کشیدگی کم ہونے کے کیا آثار نمودار ہوتے ہیں تاکہ مارکیٹ میں دوبارہ استحکام آ سکے۔
اس صورتحال کے پیش نظر مالیاتی ماہرین نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جذباتی فیصلے کرنے سے گریز کریں اور طویل مدتی حکمت عملی کے تحت مارکیٹ کا جائزہ لیں۔ حکومت اور ریگولیٹری اداروں کی جانب سے معاشی استحکام کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات بھی اس مرحلے پر انتہائی اہمیت کے حامل ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رکھا جا سکے اور مارکیٹ کو مزید بڑے نقصانات سے بچایا جا سکے۔