Business
مارگیج ریٹس میں اضافہ، قرض داروں کی امیدیں ختم
برطانیہ اور دیگر عالمی مالیاتی منڈیوں میں مارگیج ریٹس کم ہونے کے منتظر قرض داروں کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب بڑے قرض دہندگان نے نئے سودوں پر شرح میں اضافہ کر دیا۔ اس صورتحال نے ہوم لون کے خواہشمند اور ری فنانسنگ کے منتظر ہزاروں افراد کو مشکل فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی ہے جب مارگیج ریٹس میں نمایاں کمی کی امید لگائے بیٹھے ہزاروں قرض داروں کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ حالیہ دنوں کے دوران دنیا بھر کے بڑے قرض دہندگان اور بینکوں نے نئے مارگیج سودوں کی شرح میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے۔ اس غیر متوقع اقدام کی وجہ سے وہ تمام افراد شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جو اپنے گھر خریدنے یا پرانے قرضوں کو ری فنانس کروانے کے لیے سود کی شرح میں کمی کا انتظار کر رہے تھے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق افراطِ زر کے دباؤ اور مرکزی بینکوں کی سخت مانیٹری پالیسیوں کی وجہ سے قرض دینے والے ادارے اس بات پر مجبور ہیں کہ وہ اپنے خطرات کو کم سے کم کریں۔ دوسری جانب اس فیصلے سے ہوم لون مارکیٹ میں غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے اور خریداروں کی قوتِ خرید متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر شرح سود کی یہ بلند سطح طویل عرصے تک برقرار رہی تو اس کا براہِ راست اثر ہوم لون کی درخواستوں اور مجموعی پراپرٹی مارکیٹ کی سست روی پر پڑے گا۔ بڑے قرض دہندگان کی طرف سے اٹھائے گئے ان اقدامات نے مارکیٹ کے روایتی رجحان کے برعکس ایک نئی بحث چھوٹی ہے جس میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا آنے والے مہینوں میں شرح سود میں کسی قسم کی ریلیف کی توقع کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ اس تمام صورتحال میں عام صارفین کے لیے فیصلے کی گھڑی آ چکی ہے کیونکہ انہیں موجودہ بلند شرح سود پر ہی سمجھوتہ کرنا ہوگا یا پھر اپنے ہوم لون کے فیصلوں کو فی الحال موخر کرنا پڑے گا۔