LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی فیشن ڈیزائنر پال سمتھ کا انٹرویو اور کیریئر کی کہانی

News Image
معروف برطانوی فیشن ڈیزائنر پال سمتھ نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے طویل کیریئر اور فیشن انڈسٹری کے بدلتے ہوئے رجحانات پر کھل کر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صنعت میں ماضی کی کامیابیوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ نئے سرے سے خود کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔
برطانیہ کے نامور اور بااثر فیشن ڈیزائنر پال سمتھ نے حال ہی میں اپنے دفتر میں برطانوی نشریاتی ادارے سے ایک تفصیلی انٹرویو میں اپنے طویل کیریئر اور فیشن کی دنیا کے تلخ حقائق پر روشنی ڈالی۔ اپنے منفرد انداز اور تخلیقی صلاحیتوں کے لیے پہچانے جانے والے اس ڈیزائنر نے بتایا کہ فیشن کی دنیا انتہائی بے رحم ہے جہاں پرانے اعزازات اور ماضی کی کامیابیاں زیادہ دیر تک یاد نہیں رکھی جاتیں۔ پال سمتھ نے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں کسی کے پاس اس بات کے لیے وقت نہیں ہے کہ وہ یہ سوچے کہ آپ ماضی میں کتنے شاندار ڈیزائنر تھے۔ انٹرویو کے دوران پال سمتھ نے اپنے طویل سفر کے دوران پیش آنے والے چیلنجز کا ذکر کیا اور بتایا کہ کیسے انہوں نے مسلسل محنت اور نئی سوچ کے ساتھ خود کو اس مسابقتی مارکیٹ میں زندہ رکھا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فیشن انڈسٹری میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہر روز خود کو ایک نئے طالبعلم کی طرح سمجھیں اور ہر کلیکشن کے ساتھ کچھ نیا کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے اپنے دفتر میں رکھی ایک ربڑ کی مرغی کا بھی ذکر کیا جو ان کے نزدیک کام کے دوران مزاح اور تخلیقی آزادی کی علامت ہے۔ فیشن ڈیزائننگ کے شعبے میں نوجوان نسل کے لیے ان کا پیغام تھا کہ شارٹ کٹس سے کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ پال سمتھ کے مطابق، حقیقی کامیابی صرف اس وقت ملتی ہے جب آپ اپنے کام سے جنون کی حد تک محبت کرتے ہیں اور ہر تنقید کو مثبت انداز میں لے کر بہتری کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔ ان کی یہ باتیں فیشن اور ڈیزائننگ کے شعبے سے وابستہ افراد کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں جو اس صنعت میں اپنے قدم جمانا چاہتے ہیں۔