LIVE
Loading Breaking News...

اسکاٹ لینڈ ميں 400 سال بعد پہلے جنگلی بيورز كی پيدائش

News Image
چار سو سال کے طویل عرصے کے بعد اسکاٹ لینڈ کے علاقے گلين افرك ميں پہلے جنگلی بيورز پیدا ہوئے ہیں۔ تحفظِ ماحولیات کے کارکنان نے اس واقعے کو جنگلات کی بحالی اور حیاتیاتی تنوع کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا ہے۔
اسکاٹ لینڈ کے مشہور اور خوبصورت علاقے گلين افرك میں ماحولیاتی تحفظ کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور خوش آئند واقعہ پیش آیا ہے، جہاں تقریبا چار سو سال کے طویل وقفے کے بعد پہلی بار جنگلی بنیادوں پر بیورز پیدا ہوئے ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات اور جنگی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں کا ماننا ہے کہ اس علاقے میں حال ہی میں چھوڑے گئے گیارہ بیورز کے نتیجے میں کم از کم دو نئے بچے (کٹس) دنیا میں آئے ہیں۔ اس کامیابی کو جنگلات کی بحالی اور مقامی ماحولیاتی نظام کے احیاء کے لیے ایک بہت بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ گلين افرك میں ان جانداروں کی واپسی نہ صرف خطے کی قدرتی خوبصورتی کو بڑھا رہی ہے بلکہ یہ آبی حیات اور دیگر جنگلی جانوروں کے لیے بھی انتہائی سازگار ماحول فراہم کرنے کا سبب بنے گی۔ بیورز کو ماحول کا معمار بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی آبی سرگرمیاں اور بند باندھنے کی صلاحیت نئے تالابوں اور دلدلی علاقوں کو جنم دیتی ہے، جو کہ مینڈکوں، مچھلیوں اور مختلف قسم کے پرندوں کی افزائشِ نسل کے لیے بہترین پناہ گاہیں بنتی ہیں۔ اسکاٹ لینڈ میں صدیوں پہلے انسانوں کی مداخلت اور شکار کی وجہ سے بیورز کی نسل ناپید ہو چکی تھی، تاہم حالیہ برسوں میں حکومتی اور نجی سطح پر انہیں دوبارہ ان کے قدرتی ماحول میں بسانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نوزائیدہ بچوں کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہاں چھوڑے گئے بیورز نہ صرف نئے ماحول میں بخوبی ڈھل چکے ہیں بلکہ وہ افزائشِ نسل کے عمل میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ اس کامیابی سے ملک بھر کے دیگر علاقوں میں بھی جنگلی حیات کے تحفظ کے پراجیکٹس کو تقویت ملے گی اور ماحولیاتی توازن کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔