Technology
شٹلینڈ اسپیس پورٹ کے لیے تیس ملین پاؤنڈز کی سرمایہ کاری کا اعلان
برطانیہ کے شمالی ترین مقام پر واقع شٹلینڈ اسپیس پورٹ پروجیکٹ کے لیے تیس ملین پاؤنڈز کی فنڈنگ کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس منصوبے سے کمرشل راکٹ لانچنگ کی صنعت کو فروغ ملے گا اور مقامی سطح پر نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
برطانیہ کے شمالی ترین علاقے میں واقع شٹلینڈ اسپیس پورٹ پروجیکٹ کو برطانوی حکومت کی جانب سے تیس ملین پاؤنڈز کی بڑی مالیاتی سرمایہ کاری حاصل ہو گئی ہے۔ یہ فنڈنگ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے کہ برطانیہ خلائی ٹیکنالوجی اور کمرشل راکٹ لانچنگ کے شعبے میں عالمی سطح پر ایک اہم مقام حاصل کر سکے۔ اس پروجیکٹ کی کامیابی سے خطے میں دفاعی اور خلائی تحقیق کے نئے دروازے کھلیں گے۔
یہ اسپیس پورٹ انسٹ کے مقام پر قائم کیا جا رہا ہے جو کہ برطانیہ کا شمالی ترین نکتہ ہے۔ اس مقام کو راکٹ لانچنگ کے لیے اس لیے بھی موزوں قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہاں سے زمین کے مدار میں چھوٹے کمرشل راکٹوں کو خلا میں بھیجنا نسبتاً آسان اور محفوظ عمل ہے۔ کئی نجی کمپنیاں پہلے ہی اس مقام کو اپنے خلائی مشنز کے لیے استعمال کرنے کی خواہش ظاہر کر چکی ہیں اور اس فنڈنگ کے بعد ان کے منصوبوں کو مزید مہمیز ملے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری سے نہ صرف خلائی تحقیق کے شعبے کو تقویت ملے گی بلکہ مقامی معیشت پر بھی اس کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس منصوبے کے تحت جدید ترین انفراسٹرکچر تیار کیا جائے گا جس سے ہنر مند افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ اسپیس پورٹ یورپی خلائی مارکیٹ میں ایک اہم مرکز کی حیثیت اختیار کر لے گا۔