LIVE
Loading Breaking News...

سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ کی تنخواہ میں 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ

News Image
سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ کی سالانہ تنخواہ میں تاریخی اضافہ کیا جا رہا ہے جس کے بعد ان کی کُل تنخواہ 36 لاکھ سنگاپورین ڈالر ہو جائے گی۔ یہ فیصلہ دنیا بھر کے سیاسی رہنماؤں میں سب سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے عہدے کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ کی سالانہ تنخواہ میں نمایاں اضافے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے بعد وہ دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے رہنما کی حیثیت سے اپنے مالیاتی پیکج کو مزید مستحکم کریں گے۔ نئی تبدیلی کے بعد ان کی سالانہ تنخواہ بڑھ کر 3.6 ملین سنگاپورین ڈالر یعنی لگ بھگ 2.8 ملین امریکی ڈالر ہو جائے گی۔ یہ فیصلہ ملک میں اعلیٰ ترین سرکاری عہدوں کی کارکردگی اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے طے شدہ فارمولے کے تحت کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سنگاپور میں وزراء اور اعلیٰ سرکاری حکام کی تنخواہوں کا موازنہ ملک کے سرفہرست نجی شعبے کے ایگزیکٹیوگس کی آمدنی سے کیا جاتا ہے تاکہ بہترین ٹیلنٹ کو حکومت کی طرف راغب کیا جا سکے اور بدعنوانی کا سدباب کیا جا سکے۔ اس خطیر معاوضے میں کارکردگی پر مبنی بونس اور دیگر مراعات بھی شامل ہیں جو ملکی معیشت اور گورننس کے اہداف سے منسلک ہوتی ہیں۔ لارنس وونگ، جنہوں نے حال ہی میں سنگاپور کی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا ہے، ملک کی معاشی ترقی اور استحکام کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ ناقادانہ نظریات کے باوجود، سنگاپور کا یہ نظام طویل عرصے سے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین منتظمین کو مارکیٹ کے مساوی تنخواہیں دی جانی چاہئیں تاکہ وہ پوری دیانت داری اور توجہ کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔ عالمی سطح پر اس تنخواہ کو کسی بھی جمہوری ملک کے سربراہ مملکت کے لیے ملنے والی سب سے زیادہ تنخواہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس تازہ ترین اضافے کے بعد سنگاپور کے انتظامی ڈھانچے اور سرکاری اخراجات پر ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث شروع ہو گئی ہے، تاہم مقامی سطح پر اسے گورننس کے طے شدہ اصولوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔