LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کی جانب سے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں کا اعلان

News Image
برطانوی حکومت نے پارلیمنٹ میں اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ اسرائیلی بستیوں سے آنے والی درآمدات پر پابندی عائد کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔
برطانوی حکومت نے ایک اہم پالیسی فیصلے کے تحت مقبوضہ اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیاء پر درآمدی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیر ایڈ ملی بینڈ نے اس بات کا باضابطہ اعلان کیا کہ برطانیہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی بستیوں کے خلاف سخت موقف اختیار کرے گا۔ اس فیصلے کا مقصد غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور ان کی معاشی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے اسرائیل کی جانب سے قائم کی جانے والی ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتی آ رہی ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ میں اس حوالے سے ہونے والی بحث کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ برطانیہ عالمی قوانین کے احترام اور منصفانہ تجارت کے اصولوں پر کاربند ہے۔ نئی پابندیوں کے نفاذ سے ان اشیاء کی برطانوی مارکیٹ تک رسائی ناممکن ہو جائے گی جو متنازع علاقوں میں تیار کی جاتی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد بین الاقوامی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ایک طرف جہاں انسانی حقوق کے حامی اداروں اور فلسطینین کی نمائندہ تنظیموں نے اس قدم کو خوش آئند قرار دیا ہے، وہیں اس سے سفارتی سطح پر بھی نئے مباحث جنم لے سکتے ہیں۔ برطانوی حکومت کا یہ اقدام عالمی سیاست میں ایک نمایاں موڑ کی حیثیت رکھتا ہے جو مستقبل میں دیگر یورپی ممالک کے لیے بھی ایک نظیر بن سکتا ہے۔