World
سوڈان کا صحت کا نظام تباہی کے قریب، ایم ایس ایف کی وارننگ
طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں صحت کی ایک تہائی سے زائد سہولیات بند ہو چکی ہیں۔ امدادی کٹس اور مالی مشکلات میں اضافے کے باعث ملک کا مجموعی صحت کا نظام مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔
بین الاقوامی طبی امدادی تنظیم 'ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز' (ایم ایس ایف) نے سوڈان کی تازہ ترین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک کا نظامِ صحت مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹس کے مطابق سوڈان میں صحت کی ایک تہائی سے زائد سہولیات اس وقت مکمل طور پر غیر فعال ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں شہریوں کو علاج معالجے کی بنیادی سہولیات سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ یہ بحران ایسے وقت میں گہرا ہوا ہے جب بین الاقوامی امداد میں مسلسل کمی اور فنڈز کی قلت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ملک بھر میں ادویات، طبی آلات اور عملے کی شدید کمی کی وجہ سے اسپتال اور کلینک بند ہو رہے ہیں، اور جو ادارے کسی حد تک کام کر رہے ہیں وہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق امدادی کارروائیوں میں فوری طور پر تیزی نہ لائی گئی تو یہ بحران انسانیت کے لیے ایک بڑی طوفانی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی برادری اور امدادی اداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سوڈان کے متاثرہ عوام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر طبی امداد فراہم کریں تاکہ مزید قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔ سوڈان میں جاری طویل خانہ جنگی اور سیاسی عدم استحکام نے پہلے ہی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے، اور اب صحت کے شعبے کا بیٹھ جانا عام شہریوں کے لیے کسی بڑے عذاب سے کم نہیں ہے۔ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے تمام فریقین اور عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ اس انسانی المیے کو روکنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کریں، ورنہ آنے والے دنوں میں صورتحال مکمل قابو سے باہر ہو جائے گی۔