LIVE
Loading Breaking News...

یمن تنازع: سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین جھڑپیں اور توانائی کی تنصیبات پر حملے

News Image
یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری تنازع میں حالیہ حملوں کے بعد شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ حوثی حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی اور جنوبی شہروں میں توانائی کی تنصیبات متاثر ہوئی ہیں۔
یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے خطے میں امن کی کوششوں کو سخت دھچکا پہنچایا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہونے والے حوثی حملوں کے نتیجے میں جنوبی شہروں میں قائم اہم توانائی کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں کی زد میں آ کر ستر سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال نے ملک کی معاشی اور توانائی کی سلامتی کے حوالے سے نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ حوثی باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے ان میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سعودی حکام نے انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سعودی حکومت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملک کی خودمختاری، شہریوں کے جان و مال اور اہم تنصیبات کا بھرپور دفاع کیا جائے گا اور اس جارحیت کا منہ توڑ اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ریاض کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس قسم کی کارروائیوں سے نہ صرف خطے کا امن خطرے میں پڑتا ہے بلکہ بین الاقوامی توانائی کی رسد کو بھی نقصان پہنچتا ہے، جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کشیدگی کے بعد خطے میں ایک بار پھر عسکری تناؤ بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں جبکہ سفارتی حلقوں میں بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا اور مذاکرات کی میز پر واپسی کا راستہ اختیار نہ کیا، تو یہ تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ یمن پہلے ہی طویل المدتی جنگ اور انسانی بحران کا شکار ہے، اور تازہ ترین جھڑپیں عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ آئندہ آنے والے دنوں میں سفارتی کوششیں تیز ہونے کا امکان ہے تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔