World
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا بیان، حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت کا عزم
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور دفاع کرے گا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ تہران اس وقت تک مزاحمت جاری رکھے گا جب تک حملہ آور اپنے اقدامات پر شرمندہ نہیں ہوجاتے
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ایران ملک کے خلاف ہونے والی کسی بھی جارحیت کا بھرپور دفاع کرے گا اور اس وقت تک مزاحمت جاری رکھی جائے گی جب تک حملہ آور اپنے اقدامات پر پشیمان نہیں ہو جاتے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایرانی قوم اور حکومت ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
خطے میں جاری کشیدگی اور بین الاقوامی ردعمل کے تناظر میں ایرانی قیادت کا یہ بیان انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ اس دوران عالمی سطح پر سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں جہاں چین نے مذاکرات پر زور دیا ہے جبکہ دوسری جانب برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے اسرائیل کے حوالے سے اپنا موقف سخت کر لیا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے سخت ردعمل کے بعد خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا موقف ہے کہ ملک اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ ایرانی صدر کے اس تازہ بیان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ تہران موجودہ علاقائی بحران کے دوران دفاعی پوزیشن پر قائم رہے گا اور بیرونی دباؤ کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گا۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے فوری سفارتی اقدامات کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔