World
سعودی عرب: ملازمین کو دیگر مقامات پر کام دینے پر سخت سزائیں نافذ
سعودی عرب میں لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں اور مالکان کے خلاف سخت سزاؤں کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایسے آجروں کو چھ ماہ قید اور ایک لاکھ ریال تک جرمانہ ہو سکتا ہے جو اپنے ملازمین کو دوسروں کے لیے کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
ریاض: سعودی عرب میں اقامہ اور لیبر قوانین کو مزید سخت بناتے ہوئے وزارتِ افرادی قوت کی جانب سے اہم احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ نئے ضوابط کے مطابق اگر کوئی بھی آجر یا کمپنی اپنے کفالت میں موجود ملازم کو کسی دوسرے فرد یا ادارے کے لیے کام کرنے کی اجازت دیتی ہے، تو اسے سنگین قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کفیل یا ادارے کو چھ ماہ تک کی قید اور ایک لاکھ سعودی ریال تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم ملک میں لیبر مارکیٹ کو منظم کرنے، غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے اور روزگار کے شفاف مواقع کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ماضی میں یہ دیکھا گیا تھا کہ بعض کمپنیاں یا کفیل اپنے ملازمین کو مارکیٹ میں آزادانہ طور پر مزدوری کرنے کی اجازت دے دیتے تھے اور بدلے میں ان سے ماہانہ فیس وصول کرتے تھے، جو کہ اب مملکت کے قوانین کے بالکل خلاف ہے۔
سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے تمام اداروں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں جو لیبر قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ وزارت نے تمام کاروباری شخصیات اور کمپنیوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو صرف اپنے منظور شدہ کاروباری دائرہ کار کے اندر ہی کام کرنے کی پابند بنائیں اور کسی بھی دوسری جگہ پر خدمات انجام دینے سے گریز کریں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سخت قانون کے نفاذ سے ملک میں بے روزگاری کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور اقامہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف شکنجہ مزید تنگ ہوگا۔ حکومت نے تمام شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ لیبر قوانین کی پاسداری کریں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں تاکہ ایک منظم اور قانون کے مطابق معاشرہ قائم کیا جا سکے۔