LIVE
Loading Breaking News...

مودی تجزیہ: پاکستان مشرق وسطیٰ کے تیل کے بحران سے نمٹنے کے لیے تیار

News Image
مودی کی تجزیہ کار گریس لیم کے مطابق پاکستانی معیشت میں بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت 2022 کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ہو چکی ہے۔ ملک اب مشرق وسطیٰ کے تیل کے بحران اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے اثرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ مضبوط پوزیشن میں موجود ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز (Moody's) کی ایک تجزیہ کار گریس لیم نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت اب مشرق وسطیٰ میں تیل کے ممکنہ بحران اور آبنائے ہرمز کے جھٹکوں کو برداشت کرنے کے لیے سال 2022 کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر اور مستحکم پوزیشن میں ہے۔ اس بیان سے ملکی معاشی صورتحال کے حوالے سے مثبت اشارے مل رہے ہیں کیونکہ ماضی کے مقابلے میں بیرونی اقتصادی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران معاشی اصلاحات اور پالیسی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات نے ملک کو بیرونی خطرات کے خلاف زیادہ لچکدار بنا دیا ہے۔ سال 2022 کے دوران عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور دیگر بیرونی عوامل کی وجہ سے پاکستان کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس سے زر مبادلہ کے ذخائر اور درآمدی بل پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔ تاہم موجودہ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے موڈیز کی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ملک کی معیشت اب ایسے کسی بھی بیرونی جھٹکے کے اثرات کو جذب کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہے۔ معاشی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کی ریٹنگز اور تجزیے عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں میں ملک کے تئیں اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے معاشی استحکام کے لیے کی جانے والی کوششیں رنگ لا رہی ہیں، جس سے نہ صرف افراط زر پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے بلکہ بیرونی کھاتے کے توازن میں بھی بہتری آ رہی ہے۔ توانائی کے شعبے میں چیلنجز اب بھی برقرار ہیں، لیکن مجموعی طور پر معیشت کا بیرونی جھٹکوں کے خلاف زیادہ لچکدار ہونا ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ اس رپورٹ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کوئی بحران پیدا بھی ہوتا ہے تو پاکستان پہلے کی طرح شدید ترین معاشی بحران کا شکار نہیں ہوگا، کیونکہ ملکی معیشت اب اس نوعیت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ تیار اور مستحکم ہے۔