LIVE
Loading Breaking News...

امریکی اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ، تیل کی قیمتیں بلند

News Image
مڈل ایسٹ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں امریکی اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا۔ ایس اینڈ پی 500 اور ڈاؤ جونز کے فیوچرز میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں نئے ہفتے کے آغاز پر ملا جلا اور منفی رجحان دیکھا جا رہا ہے، جہاں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔ ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز مارکیٹ میں کمی کے ساتھ کھلے، جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ اور تیل کی سپلائی میں ممکنہ تعطل کے خطرات ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی معیشت کے حوالے سے نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ دوسری جانب خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اگر تنازع مزید طول پکڑتا ہے تو تیل کی قیمتیں فی بیرل سو ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیجی خطے میں ہونے والے واقعات نے توانائی کی سپلائی کے حوالے سے مارکیٹ کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس دوران ین کی پوزیشن مضبوط ہونے اور دیگر جغرافیائی سیاسی عوامل نے بھی اسٹاک انڈیکس پر منفی اثر ڈالا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت انتہائی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں کیونکہ ایک طرف افراط زر پر قابو پانے کے لیے فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات ہیں تو دوسری طرف توانائی کے بحران کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ڈاؤ جونز اور ایس اینڈ پی 500 کے حصص میں ابتدائی گھنٹوں میں ہی کمی ریکارڈ کی گئی، جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مارکیٹ کے شرکاء خطرے سے بچنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا دارومدار مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال اور امریکی اقتصادی اعشاریوں پر ہوگا۔ تجارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک تیل کی قیمتوں میں استحکام نہیں آتا اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کم نہیں ہوتی، عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا قوی امکان ہے۔