LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی بندرگاہوں پر مہاجرین کو اتارنے کی اجازت سے انکار

News Image
برطانیہ میں کنگز ہاربر ماسٹر اور ساؤتھ ہیمپٹن پورٹ نے اتوار کے روز 120 مہاجرین کو بندرگاہ پر لانے کی درخواست مسترد کر دی۔ اس فیصلے کے بعد مہاجرین کی سمندری نقل و حمل اور امدادی کارروائیوں پر نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
برطانیہ کے اہم سمندری حکام نے اتوار کے روز ایک متنازعہ فیصلے کے تحت آر این ایل آئی (RNLI) کی امدادی کشتیوں میں سوار تقریباً 120 مہاجرین کو بندرگاہوں پر لانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس پیش رفت نے ملک میں جاری تارکین وطن کے بحران اور سمندری امدادی اداروں کے کردار پر نئی بحث چھڑ دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کنگز ہاربر ماسٹر اور ساؤتھ ہیمپٹن پورٹ دونوں نے الگ الگ طور پر اس درخواست کو مسترد کیا جس میں ان مہاجرین کو ساحل پر اتارنے کی استدعا کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق یہ مہاجرین جو کہ طویل اور خطرناک سمندری سفر طے کر کے برطانوی سمندری حدود کے قریب پہنچے تھے، انہیں ریسکیو کے بعد ان کشتیوں میں سوار کیا گیا تھا۔ تاہم، پورٹ حکام کی جانب سے سخت مؤقف اپناتے ہوئے ان کے لنگر انداز ہونے یا مہاجرین کو خشکی پر اتارنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ بندرگاہوں کی انتظامیہ اور حفاظتی پروٹوکولز کے تحت اس طرح اچانک اتنی بڑی تعداد میں مہاجرین کو قبول کرنا ضابطے کے خلاف ہے، جس کی وجہ سے یہ بحران مزید سنگین ہو گیا۔ اس فیصلے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور مہاجرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھلے سمندر میں کشتیوں پر موجود مہاجرین کی جان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، بالخصوص جب موسم کی صورتحال بھی غیر یقینی ہو۔ دوسری جانب، مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی ادارے اس معاملے پر مسلسل غور کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی انسانی المیے سے بچتے ہوئے قانون کے مطابق کوئی متبادل حل نکالا جا سکے، لیکن فی الحال صورتحال کشیدہ بنی ہوئی ہے۔