LIVE
Loading Breaking News...

پیرو کے سابق صدر اولانتا ہومالا کی رہائی، سزا کالعدم قرار

News Image
پیرو کے سابق صدر اولانتا ہومالا اور ان کی اہلیہ کو گزشتہ سال منی لانڈرنگ کے الزام میں پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ عدالت کی جانب سے سزا کالعدم قرار دیے جانے کے بعد دونوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔
پیرو کے سابق صدر اولانتا ہومالا کو عدالت کی جانب سے ان کی سزا کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے نے ملکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھوٹی ہے اور اسے ایک اہم قانونی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ سابق صدر اور ان کی اہلیہ کو گزشتہ سال عدالت نے منی لانڈرنگ کے الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے پندرہ سال قید باقاعدہ سزا سنائی تھی، جس کے بعد وہ جیل میں اپنی سزا کاٹ رہے تھے۔ قانونی ٹیم کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے اب نظرثانی کی ہے۔ عدالت کے حالیہ حکم کے بعد اولانتا ہومالا کی رہائی عمل میں آئی ہے تاہم اس کیس سے متعلق قانونی کارروائی اور تحقیقات ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔ اس فیصلے نے جہاں ان کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے، وہیں دوسری طرف ملک کے سیاسی منظر نامے پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سابق صدر کے وکلاء نے اس فیصلے کو انصاف کی جیت قرار دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے مؤکل پر لگائے جانے والے الزامات سچائی پر مبنی نہیں تھے اور عدالتی کارروائی کے دوران حقائق کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ پیرو کی سیاست میں اولانتا ہومالا ایک نمایاں نام رہے ہیں اور ان کا دورِ حکومت بھی مختلف حوالوں سے زیر بحث رہا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران پیرو میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت کئی سابق صدور کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں کی گئی ہیں جن میں اولانتا ہومالا کا نام بھی شامل تھا۔ اس رہائی کے بعد یہ دیکھنا باقی ہے کہ استغاثہ اس فیصلے کے خلاف مزید کوئی قانونی چارہ جوئی کرتا ہے یا یہ مقدمہ یہیں ختم ہو جاتا ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس عدالتی فیصلے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ یہ پیرو کے پیچیدہ عدالتی اور سیاسی نظام کا ایک اہم باب ہے۔