World
سویڈن میں برطانوی خاتون کو ملک بدری کا سامنا، بریگزٹ فارم کی تاخیر بنی وجہ
بائیس سال سے سویڈن میں مقیم اٹھہتر سالہ برطانوی بیوہ کو بریگزٹ رہائشی درخواست وقت پر جمع نہ کرانے پر ملک بدری کا سامنا ہے۔ سویڈش حکام کی جانب سے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یورپی یونین سے برطانیہ کے انخلا یعنی بریگزٹ کے ضوابط نے دنیا بھر کے شہریوں کے لیے پیچیدگیاں پیدا کی ہیں، اور اب اس کا ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ سویڈن میں گزشتہ بائیس سال سے مستقل مقیم ایک اٹھہتر سالہ برطانوی بیوہ کو اب ملک بدری کے سنگین خطرے کا سامنا ہے۔ متعلقہ خاتون پر الزام ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنی بریگزٹ رہائشی درخواست جمع کرانے میں ناکام رہی تھیں، جس کی وجہ سے انتظامیہ نے ان کے خلاف یہ سخت قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بزرگ خاتون نے اپنی زندگی کے دو عشروں سے زیادہ کا طویل عرصہ سویڈن میں گزارا ہے اور وہاں ان کا ایک مستحکم سماجی اور ذاتی نظامِ زندگی موجود ہے۔ سویڈش امیگریشن حکام کا مؤقف ہے کہ قوانین تمام شہریوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں اور مقررہ تاریخ کے بعد موصول ہونے والی درخواستوں پر قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔ تاہم اس سخت گیر پالیسی پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوامی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک عمر رسیدہ خاتون کے ساتھ، جو کہ بیوہ بھی ہیں اور طویل عرصے سے ملک میں مقیم ہیں، اس نوعیت کا سخت سلوک غیر منصفانہ ہے۔ قانونی ماہرین اور امدادی تنظیمیں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی تیاری کر رہی ہیں تاکہ اس بزرگ خاتون کو ملک بدر ہونے سے بچایا جا سکے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں سویڈن میں رہنے کی خصوصی اجازت دی جائے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر بریگزٹ کے بعد برطانوی شہریوں کو درپیش انتظامی اور قانونی مسائل کو اجاگر کر دیا ہے، جن کے حل کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مزید لچکدار رویے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔