LIVE
Loading Breaking News...

آئس لینڈ کا امریکی سفیر کو طلب کرنے کا اقدام، ٹرمپ کے متنازع نقشے پر کشیدگی

News Image
آئس لینڈ کی حکومت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس متنازع نقشے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں گرین لینڈ کو امریکی پرچم کے رنگوں میں دکھایا گیا تھا۔ اس سفارتی تنازع کے بعد آئس لینڈ میں امریکی سفیر کو طلب کرکے وضاحت طلب کی گئی ہے۔
ریکجاوک: آئس لینڈ کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کے تناظر میں ملک میں تعینات امریکی سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر لیا ہے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ ایک متنازع نقشے کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں مبینہ طور پر علاقائی حدود اور خودمختاری کے حوالے سے ایسے اشارے دیے گئے تھے جن پر آئس لینڈ اور اس کے پڑوسی خطے کے ممالک نے گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ اس سے قبل بھی ٹرمپ کے علاقائی عزائم اور بیانات پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کا سبب بنتے رہے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے حکام کے مطابق، امریکی سفیر سے ملاقات کے دوران اس نقشے اور اس کے پسِ منظر میں موجود امریکی ارادوں کے بارے میں باضابطہ طور پر بازپرس کی گئی ہے۔ آئس لینڈ کی حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خطے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اس قسم کے اقدامات دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے سفارتی تنازعات سے شمالی یورپ اور امریکہ کے روایتی تعلقات میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔ آئس لینڈ کے اس سخت سفارتی رویے کو یورپ میں مجموعی طور پر سراہا جا رہا ہے جبکہ امریکہ کی جانب سے ت حال اس معاملے پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے آئندہ دنوں میں مزید سفارتی رابطے متوقع ہیں تاکہ اس غلط فہمی اور کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔