LIVE
Loading Breaking News...

مغربی کنارہ: برطانوی پابندیوں اور اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات کا معاملہ

News Image
مغربی کنارے میں فلسطینیوں نے اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندی کے فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے اس قدم کو ایک بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
مغربی کنارے کے زرعی علاقوں میں کھجور کے کاشتکار اس صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ برطانوی حکومت کی جانب سے اسرائیلی بستیوں پر عائد کردہ پابندیوں کے ان کے کاروبار اور معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں تجارتی اور سفارتی تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے متنازعہ علاقوں میں ہونے والی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ فلسطینی کسانوں اور رہنماؤں نے اس پابندی کے فیصلے کی بھرپور حمایت کی ہے اور اسے ایک طویل عرصے سے جاری ناانصافیوں کے خلاف ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بستیوں میں تیار ہونے والی اشیاء اور زرعی مصنوعات پر پابندی لگنے سے غیر قانونی آباد کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی اور عالمی سطح پر فلسطینی حقوق کو تقویت ملے گی۔ فلسطینی عوام طویل عرصے سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ متنازعہ علاقوں کی معیشت کو بین الاقوامی تعاون حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس، اسرائیلی حکومت نے برطانیہ کے اس اقدام پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندی ایک بڑی غلطی ہے جو خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی اور اس سے دوطرفہ تعلقات کشیدہ ہوں گے۔ اسرائیلی حکومت کا موقف ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے معاشی استحکام خراب ہوتا ہے اور اس کا خمیازہ عام کسانوں اور محنت کشوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس تمام صورتحال کے دوران مغربی کنارے میں کھجور کی کاشت اور برآمدات سے وابستہ افراد بے یقینی کا شکار ہیں۔ وہ اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا برطانوی منڈی تک رسائی محدود ہونے سے ان کی آمدنی پر کس حد تک فرق پڑے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے نفاذ کے بعد بین الاقوامی تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور اس تنازعے کا دائرہ کار مزید پھیل سکتا ہے۔