World
برطانیہ کا اسرائیل سے متعلق پالیسی میں اہم تبدیلی کا اعلان
برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس اقدام سے برطانوی خارجہ پالیسی میں اسرائیل کے حوالے سے ایک نمایاں تبدیلی نظر آتی ہے۔
برطانوی حکومت نے اسرائیل سے متعلق اپنے روایتی سیاسی اور سفارتی مؤقف میں ایک اہم اور نمایاں تبدیلی کا عندیہ دیتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم کی جانے والی متنازعہ اسرائیلی بستیوں پر باضابطہ طور پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ برطانوی وزارت خارجہ کی جانب سے اٹھائے گئے اس قدم کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ ماضی میں برطانیہ کا شمار اسرائیل کے قریبی حامی ممالک میں ہوتا تھا۔ نئی پابندیوں کا بنیادی مقصد ان افراد اور اداروں کو نشانہ بنانا ہے جو مغربی کنارے میں فلسطینی زمینوں پر غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور وہاں بسنے والے انتہا پسند آباد کاروں کی پشت پناہی میں براہ راست ملوث ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت ان بستیوں کو پہلے ہی غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے، تاہم برطانوی حکومت کی جانب سے اس طرح کے سخت اقدامات اٹھانا اس بات کا غماز ہے کہ لندن انتظامیہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اب خاموش تماشائی بنے رہنے کے بجائے عملی اقدامات اٹھانے پر یقین رکھتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پالیسی تبدیلی طویل مدت میں برطانیہ اور اسرائیل کے تعلقات پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر عالمی برادری کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ برطانوی حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ پابندیاں علاقائی امن کے قیام اور دو ریاستی حل کی بحالی کے لیے ناگزیر ہیں، تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہیں ہموار کی جا سکیں اور فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے جو دہائیوں سے اس بحران کا شکار ہیں۔